صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 101
حيح البخاري - جلد ا 1+1 ٢ - كتاب الإيمان بَاب ۳۷ : سُؤَالُ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الْإِيْمَانِ وَالْإِسْلَامِ وَالْإِحْسَانِ وَعِلْمِ السَّاعَةِ وَبَيَانُ النَّبِيِّ ﷺ لَهُ جبرائیل کا نبی ﷺ سے ایمان اور اسلام اور احسان اور اس گھڑی کے علم کے متعلق پوچھنا اور نبی ﷺ کا اُن کے لئے بیان کرنا ثُمَّ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تمہیں يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ فَجَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ دِينًا تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔اس طرح آپ نے وَمَا بَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ان سب باتوں کو دین قرار دیا اور نیز جو نبی ﷺ نے لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ مِنَ الْإِيْمَانِ وَقَوْلِهِ ایمان کے متعلق عبد القیس کے نمائندوں سے بیان کیا تَعَالَى وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ يُقْبَلَ مِنْهُ۔(آل عمران : ٨٦) ٥٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۰: ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن ابراہیم إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) ابوحیان تیمی نے التَيْمِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں بتلایا۔ابو حیان نے ابو زرعہ سے، ابوزرعہ نے دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی می قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک دن لوگوں کے لئے باہر تشریف رکھتے تھے کہ آپ بَارِزًا يَوْمًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کہ ایمان کیا الْإِيْمَانُ قَالَ الْإِيْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ ہے؟ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ اور اس کے وَمَلَائِكَتِهِ وَبِلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ ملائکہ اور اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں کو مانے اور بِالْبَعْثِ قَالَ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ نیز تو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو بھی مانے۔اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور تَعْبُدَ اللهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوْضَةَ وَتَصُوْمَ نماز سنوار کر پڑھے اور مقرر کردہ زکوۃ ادا کرے اور ترجمہ: اور جو بھی اسلام کے سوا کوئی دین پسند کرے تو ہر گز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔“