صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 98 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 98

صحيح البخاری جلد ا ۹۸ ٢ - كتاب الإيمان ٤٩ : أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ۴۹ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ اسماعیل إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بن جعفر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید أَنَسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ نے حضرت انس سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عبادہ بن صامت نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کے متعلق خبر دینے کو نکلے تو که خَرَجَ يُخْبِرُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى مسلمانوں میں سے دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ إِنِّي رہے تھے۔ اس پر آپ نے فرمایا: میں نکلا تو تھا اس خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ وَإِنَّهُ لئے کہ تمہیں لیلۃ القدر کے متعلق خبر دوں اور دیکھا یہ تَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ کہ فلاں فلاں شخص آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں يَكُونَ خَيْرًا لَّكُمْ الْتَمِسُوهَا فِي دے رہے ہیں۔ سو وہ اُٹھالی گئی اور ہو سکتا ہے کہ یہی السَّبْعِ وَالتَّسْعِ وَالْخَمْسِ۔ اطرافه: ٢٠٢٣، ٦٠٤٩۔ تمہارے لئے بہتر ہو۔ پس تم اسے (رمضان کے اخیر دھاکے ) ساتویں، نویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ تشريح : خَوْفٌ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ : اس اس کو واضح کرنے کے بعد کہ اعمال کی قدر و قیمت ایمان اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ وابستہ ہے۔ امام بخاری نے اب سلبی پہلو سے گفتگو شروع کی ہے۔ یعنی یہ کہ نفاق سے عمل ضائع ہو جاتے ہیں اور ان کی کچھ قیمت نہیں رہتی اور یہ کہ صحابہ اور تابعین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایمانی نقص دور کریں اور قول اور عمل میں تطبیق دیں۔ ابراہیم تیمی : تابعین میں سے ایک بہت بڑے فقیہ ، عابد اور واعظ ہوئے ہیں۔ آپ ۹۲ھ میں فوت ہوئے۔ بعض نے ان کو مرجمہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۲۷۵) مگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی طرف سے مدافعت کی ہے اور ان کا قول نقل کیا ہے جو معتبر سندوں سے مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۴۷- ۱۴۸، عمدة القاری جزء اول صفحہ ۲۷۵) ابراہیم تیمی کی مراد یہ ہے کہ انہیں نفاق سے ڈر رہتا ہے۔ نفاق کیا ہے قول و عمل کا آپس میں غیر مطابق ہونا۔ ان کے زمانہ میں مرجئہ کا فتنہ پیدا ہو چکا تھا اور مرجہ فرقہ کا عقیدہ ایمان و اعمال کے لئے نہایت خطر ناک تھا۔ ان کا اعتقاد تھا کہ ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ۔ اہے۔ خواہ جبرائیل کا ایمان ہو خواہ زید و بکر کا ، وہ ایک سا ہی رہتا بد عملی ایمان کو کچھ نقصان نہیں دے سکتی ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ضمناً ان کارڈ کر رہے ہیں۔ كُلُّهُمْ يَخَافُ النِّفَاقَ عَلَى نَفْسِهِ : سے بھی یہی مراد ہے کہ انہیں بھی یہی ڈر رہتا تھا کہ کہیں قول وعمل ہے۔ بد