صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 97 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 97

حيح البخاري - جلد ا ۹۷ ٢ - كتاب الإيمان بَابِ ٣٦ : خَوْفُ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ مومن کا ڈرتے رہنا کہ اس کا عمل ضائع نہ ہو جائے اور اسے خبر بھی نہ ہو وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ مَا عَرَضْتُ اور ابراہیم تیمی کہتے تھے کہ میں نے جب کبھی بھی اپنا قَوْلِي عَلَى عَمَلِي إِلَّا خَشِيْتُ أَنْ قول اپنے عمل پر پیش کیا ہے تو مجھے یہی اندیشہ ہوا ہے أَكُوْنَ مُكَذِّبًا وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ کہ میں اس کو جھٹلانے والا ہوں اور ابن ابی ملیکہ کہتے أَدْرَكْتُ ثَلَاثِيْنَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمیں صحابہ سے ملا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَخَافُ ہوں۔ان میں سے ہر ایک اپنے نفاق سے ڈرتا تھا۔النِّفَاقَ عَلَى نَفْسِهِ مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَقُولُ کوئی بھی ان میں سے یہ نہیں کہتا تھا کہ اس نے إِنَّهُ عَلَى إِيْمَانِ جِبْرِيلَ وَمِيْكَائِيْلَ جبرائیل اور میکائیل کا سا ایمان حاصل کر لیا ہے اور وَيُذْكَرُ عَنِ الْحَسَنِ مَا خَافَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ حسن بصری) کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ اس وَلَا أَمِنَهُ إِلَّا مُنَافِقٌ وَمَا يُحْذَرُ مِنَ ( نفاق) سے مومن ہی ڈرتا رہتا ہے اور منافق نڈر الْإِصْرَارِ عَلَى النِّفَاقِ وَالْعِصْيَانِ مِنْ ہوتا ہے۔نیز با ہمی لڑائی * اور معصیت پر اصرار غَيْرِ تَوْبَةٍ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَمْ يُصِرُّوا کرنے سے بچتے رہنا اور تو بہ نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ فرماتا عَلَى مَا فَعَلُوْا وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ۔ہے: (وَلَمْ يَصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا) اور جو کچھ انہوں (آل عمران: ١٣٦) نے کیا اس پر جان بوجھ کر اڑے نہیں رہے۔٤٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ قَالَ :۴۸ ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا: شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ نے زبید سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: میں نے ابو وائل سے مرجیہ کے متعلق أَبَا وَائِلِ عَنِ الْمُرْجِئَةِ فَقَالَ حَدَّثَنِي پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت عبد اللہ نے عَبْدُ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ سِبَابُ بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو الْمُسْلِمِ فَسُوْقَ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ۔گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔اطرافه: ٦٠٤٤، ٧٠٧٦- لفظ النفاق کی جگہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں التقائل ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۱۴۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔