صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 96 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 96

صحيح البخاري - جلد ا ۹۶ ٢ - كتاب الإيمان باب ٣٥ : اِتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيْمَانِ جنازوں کے ساتھ جانا بھی ایمان سے ہے ٤٧ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ۴۷ : ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجوفی نے بیان کیا، عَلِي الْمَنْجُوْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ کہا کہ روح نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ وَ مُحَمَّدٍ عَنْ عرفِ نے حسن اور محمد سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسلمان کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ جنازے کے ساتھ ایمان کی وجہ اور رضائے الہی کی خاطر إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى جاتا ہے۔ جب تک اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھ لی يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَإِنَّهُ جاتی اور اس کے دفنانے سے لوگ فارغ نہیں ہو جاتے، يَرْجِعُ مِنَ الْأَجَرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيْرَاطٍ تب تک وہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو وہ دو قیراط آجر مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ لے کر واپس آتا ہے۔ ایک ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جس نے جنازہ پڑھا اور پھر اس کے دفنانے قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيْرَاطٍ تَابَعَهُ عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ سے پہلے لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط لے کر واپس آتا ہے۔ عثمان موذن نے بھی روح کی یہ حدیث بیان کی۔ انہوں مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى نے کہا: ہمیں عوف نے محمد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ۔ اطرافه: ۱۳۲۳، ۱۳۲۵۔ صلى الله سے، ۔ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتلایا۔ لو تشریح: اتَّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيمَانِ: سابق مضمون کو واضح واضح کرنے کے لئے جنازہ کا باب باندھا۔ ہے اور بتلایا ہے کہ عمل کی نوعیت کچھ ہی ہو۔ ایک ادنیٰ سے ادنی عمل بھی ؟ ، ادنیٰ سے ادنی عمل بھی ؟ جیسے جنازے کے ساتھ جانا؛ ایمان اور رضائے الہی کی وجہ سے بلحاظ اپنے تو اب کے بہت بڑی عظمت رکھتا ہے۔ قيراط : ایک سکے کا نام ہے، جو دینار کا بیسواں حصہ ہوتا ہے۔ مطلق قلت کا مفہوم ادا کرنے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اردو میں کوڑی کا لفظ ۔ امام موصوف نے اس حدیث سے یہ سمجھایا ہے کہ اس ایک معمولی عمل کو یہ اہمیت محض إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا یعنی ایمان اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔