صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 92
صحيح البخاری جلد ا ۹۲ ٢ - كتاب الإيمان ٤٥: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاح :۴۵ ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا۔انہوں سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ حَدَّثَنَا نے جعفر بن عون سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ ہم۔ابوالعلمیس نے بیان کیا کہ قیس بن مسلم نے ہمیں أَبُو الْعُمَيْس أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ بتلایا۔انہوں نے طارق بن شہاب سے، طارق نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کی کہ یہود میں الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْيَهُوْدِ قَالَ لَهُ سے کسی شخص نے ان سے کہا۔امیر المومنین ! آپ کی أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ پڑھتے ہیں۔تَقْرَءُوْنَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ اگر وہ ہم پر یعنی یہود کی قوم پر نازل ہوتی تو ہم اس نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيْدًا قَالَ دن کو عید مناتے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا: وہ کون سی أَيُّ آيَةٍ قَالَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ ہے؟ اس نے کہا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔۔۔وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ یعنی آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المَائِدة: ٤) قَالَ دین کو کامل کر دیا ہے اور تمہیں اپنی نعمت ساری کی عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ ساری عطا کر دی ہے اور میں نے تمہارے لئے الَّذِي نَزَلَتْ فِيْهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ اسلام کو بطور دین کے پسند کیا ہے۔حضرت عمر نے جواب دیا: ہمیں وہ دن معلوم ہے اور وہ جگہ بھی جہاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ فِي صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی تھی۔آپ جُمُعَة۔اطرافه ٠٤٤٠٧ ٠٤٦٠٦ ٧٢٦٨۔اس وقت جمعہ کے دن عرفات میں کھڑے تھے۔تشریح : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آیات واحادیث کی بناء پر ایمان کی ناقص و کامل حالتوں کے متعلق مختلف اعتبارات سے بحث کرتے ہوئے آخر میں آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم سے واضح کر دیا ہے کہ اسلام جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے وہ کامل دین ہے جس کی طرف آیت مذکورہ اشارہ کرتی ہے اور وہی اصل میں اس کامل نعمت کا متکفل ہے جس پر مسلمانوں کو فخر ہے۔یعنی وہ دین جو بلحاظ اعتقاد و اعمال کے ہر قسم کے کفر وشرک و نفاق کی آمیزش سے پاک ہو (المائدہ: ۴) اور جس کے ساتھ کسی قسم کے ظلم یعنی افراط و تفریط کی ملونی نہیں (الانعام: ۸۲) اور جہالت کی باتوں سے اجتناب ہو۔اپنوں اور غیروں کے لئے سلامتی و امن کا موجب ہو ( روایت ۲۸ ،۳۰) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشاں ہو ، محبت کے جذبات اپنے دل میں رکھتا