صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 79 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 79

صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان قَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله علیہ وسلم کے صحابہ کہنے لگے: ہم میں سے کس نے ظلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ نہیں کیا تو اللہ (عزوجل) نے یہ وحی نازل کی اِنَّ إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ۔(لقمان: ١٤) الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ۔شرک ہی تو ایک بہت بڑا ظلم ہے۔اطرافه: ٣٣٦٠، ٣٤٢٨ ، ٣٤٢٩ ٤٦٢٩، ٤٧٧٦ ٦٩١٨، ٦٩٣٧۔تشریح : إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ : ظلم کے منے وَضْعُ الشَّيْءٍ فِي غَيْرِ مَوْضِعہ کی چیز کو گل رکھنا۔ہر اک قسم کی بد اخلاقی اور ناجائز باتیں ظلم کے مفہوم میں شامل ہیں۔كُفْرٌ دُونَ كُفْرِ کے عنوان کے ما تحت شرک کو سب سے بڑا کفر قرار دیا گیا ہے اور معمولی بداخلاقی کو بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔پھر اس کے بعد ظُلْمٌ دُونَ ظُلْمٍ کے عنوان کے ماتحت شرک کو سب سے بڑھ کر ظلم قرار دے کر بتلایا کہ وہ کیوں گناہ عظیم ہے؟ اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے صفات خاصہ الوہیت دوسروں کی طرف منسوب کر دیئے جاتے ہیں۔عبادت یعنی محبت و اطاعت جو دراصل اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔اس میں غیروں کو شریک بنالیا جاتا ہے۔انسان جو اس کا بندہ تھا اور اس کی مرضی پوری کرنے کے لئے آیا تھا۔اپنے نفس کا یا اپنے جیسے انسان کا یا ادنی ادنی ہستیوں کا بندہ بن کر اپنے آپ کو اس مقام سے بہت نیچے گرا دیتا ہے، جس پر کھڑا ہونے کے لئے اسے پیدا کیا گیا۔حقوق العباد میں ناجائز تصرف جس قدر ظلم ہے۔حقوق اللہ میں ناجائز تصرف اس سے بدرجہا بڑھ کر ظلم ہے۔یہ ظلم کا مفہوم ہے جو شرک میں پورے طور پر پایا جاتا ہے۔شرک دراصل انسان کے غائیہ کمالیہ کو برباد کرنے والا ہے۔ایمان کی بحث پہلے اثباتی رنگ میں تھی اور اب اس کے متعلق سلبی پہلولیا گیا ہے۔آیت و حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام بخاری نے یہ بتلایا ہے کہ ایمان کامل وہ ہے جو شرک کی ملونی سے بکلی پاک ہو۔أُولَئِكَ لَهُمُ الْآمُنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (الانعام:۸۳) کامل امن اور ہدایت ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہے۔جن کے ایمان میں کسی قسم کے شرک اور ظلم کی ملونی نہ ہو۔ایمان اس وقت تک کامل نہیں۔جب تک کہ ایک طرف اعمال صالحہ اس کے ساتھ نہیں اور دوسری طرف وہ ہر قسم کے ظلم سے خالی نہیں۔کیونکہ شرک اور گناہ اور ہر قسم کا کفر اس کو ناقص کرتارہتا ہے۔فَاَنْزَلَ اللهُ۔۔۔: فَانزَلَ الله الج سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ گویا اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی۔یہ واقعہ کے خلاف ہے۔اِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ۔سورۃ لقمان کی آیت نمبر ۱۴ ہے جو کی زندگی کے درمیانی عرصہ میں نازل ہوئی تھی اور الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمُ بِظُلم۔۔۔۔الخ - سورة الانعام کی آیت نمبر ۸۳ ہے جو ہجرت سے ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی۔گویا ان دونوں سورتوں کے درمیان کم از کم چار پانچ سال کا عرصہ ہے۔اس لئے الفاظ فَأَنْزَلَ اللہ سے سابقہ آیت کا صرف حوالہ دینا اور اس سے استدلال کرنا ہی مراد ہے۔کسی قرینے (یعنی لفظی یا معنوی مناسبت ) سے عرب لوگ بات مختصر بیان کرنے کے عادی تھے اور اس اختصار میں حد درجہ کے غلوتک پہنچے ہوئے تھے۔إِنَّ أَبَا بَكْرٍ انْزَلَهُ آیا۔اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ابو بکر (یعنی دادا) کو باپ اتارا۔لیکن مراد یہ ہے کہ حقوق وراثت میں دادا کو بمنزلہ