صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 77 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 77

صحيح البخاري - جلد ا 46 ٢ - كتاب الإيمان باب وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوْا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا (الحجرات: ١٠) اور اگر مومنوں میں سے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو فَسَمَّاهُمُ الْمُؤْمِنِيْنَ۔اُن کا نام بھی مومن ہی رکھا ہے۔: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ۳۱: ہم سے عبد الرحمن بن مبارک نے بیان کیا، الْمُبَارَكِ { قَالَ } حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ) کہا : * ) ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ( کہا: یو ) { قَالَ * } حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ عَن ایوب اور یونس نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حسن الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سے حسن نے احنف بن قیس سے روایت کی کہ ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِی انہوں نے کہا کہ میں اس شخص ( یعنی حضرت علی ) کی أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيْدُ قُلْتُ أَنْصُرُ مدد کرنے کے لئے گیا تھا تو مجھے حضرت ابوبکرۃ ملے۔هَذَا الرَّجُلَ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ انہوں نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں اس شخص کی مدد کروں گا۔انہوں نے کہا: لوٹ جاؤ۔کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جب دو مسلمان اپنی اپنی تلوار میں لے کر آپس میں بھڑ فَقُلْتُ جائیں تو قاتل بھی اور مقتول بھی دوزخ میں ہوں يَقُوْلُ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِي النَّارِ يَارَسُوْلَ اللهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ گے۔اس پر میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو الْمَقْتُوْلِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيْصًا عَلَى قاتل ہوا اور مقتول کس لئے ؟ فرمایا: اس لئے کہ وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کرنے پر حریص تھا۔قَتْلِ صَاحِبِهِ۔اطرافه: ۶۸۷۵، ۷۰۸۳ تشریح: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا : بعض نسخوں میں الگ باب نہیں، بلکہ سابقہ باب کے ساتھ ہی یہ آیت شامل کی گئی ہے۔دراصل اس کا تعلق بھی پہلے ہی مضمون کے ساتھ ہے۔یہاں ان لوگوں کی غلط نبی کا ازالہ کیا گیا ہے، جو حضرت ابوبکرہ کی اس روایت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قتل کی نیت سے تلوار اٹھانے سے بھی ایک مسلمان مسلمان نہیں رہتا۔بلکہ جہنمی ہو جاتا ہے۔امام بخاری کے نزدیک یہ بیج نہیں۔بلکہ آپ مشار الیہ روایت کو آیت مذکورہ بالا کے ماتحت لا کر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کرنے والے دونوں گروہوں کو مومن لفظ فال فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری مطبوعہ بولاق جزء اول صفحہ ۸۱ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔