صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 77
صحيح البخاری جلد ا ८८ ٢ - كتاب الإيمان باب وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوْا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا (الحجرات: ۱۰) اور اگر مومنوں میں سے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو فَسَمَّاهُمُ الْمُؤْمِنِينَ۔ اُن کا نام بھی مومن ہی رکھا ہے۔ ۳۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ۳۱: ہم سے عبدالرحمن بن مبارک نے بیان کیا، الْمُبَارَكِ { قَالَ } حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (کہا : ) ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ( کہا: ) { قَالَ * } حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ عَنِ ایوب اور یونس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حسن الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سے ، حسن نے احنف بن قیس سے روایت کی کہ ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي انہوں نے کہا کہ میں اس شخص ( یعنی حضرت علیؓ) کی أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ مدد کرنے کے لئے گیا تھا تو مجھے حضرت ابوبکرہ ملے۔ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ انہوں نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں اس شخص کی مدد کروں گا۔ انہوں نے کہا: لوٹ جاؤ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ يَقُوْلُ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَقُلْتُ جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر آپس میں بھڑ جائیں تو قاتل بھی اور مقتول بھی دوزخ میں ہوں يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ صلى الله گے۔ اس پر میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيضًا عَلَى قاتل ہوا اور مقتول کس لئے ؟ فرمایا: اس لئے کہ وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کرنے پر حریص تھا۔ قَتْلِ صَاحِبِهِ۔ اطرافه: ٦٨٧٥، ٧٠٨٣۔ تشريح وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا: بعض نخوں میں الگ باب نہیں، بلک سانا صحون ، بلکہ سابقہ باب عری کے ساتھ رہی ہی یہ یہ آیت آیت شامل کی گئی ہے۔ دراصل اس کا تعلق بھی پہلے ہی مضمون کے ساتھ ہے۔ یہاں ان لوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے، جو حضرت ابوبکرہ کی اس روایت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قتل کی نیت سے تلوار اٹھانے سے بھ نے سے بھی ایک مسلمان مسلمان نہیں رہتا۔ بلکہ جہنمی ہو جاتا ہے۔ امام بخاری کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔ یہ صیح نہیں۔ بلکہ آپ مشار الیہ روایت کو آیت مذکورہ بالا کے ماتحت لا کر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کرنے والے دونوں گروہوں کو مومن لاکر یہ للفظ قال فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری مطبوعہ بولاق جزء اول صفحہ (۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔