صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 63
صحيح البخاری جلد ا ۶۳ ٢ - كتاب الإيمان أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صبا الله مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ ا ایک انصاری شخص کے پاس سے گے ں سے گذرے اور وہ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی حیا کے متعلق اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا ( کہ اتنی حیا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ نہ کیا کرو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے الْإِيْمَانِ۔ طرفه: ٦١١٨۔ چھوڑ دو کیونکہ حیا بھی ایمان ہی میں سے ہے۔ تشريح : الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ : آنحضرت صل اللہ علیہ سلم کےنزدیک اعمال کو اتنی ہی اہمیت ہے کہ وہ بھی بڑی قوت یا حالت انفعال ( یعنی حیا) جو بدیوں سے روکنے کا موجب ہوتی ہے، اس کو بھی آپ نے ایمان کی جزء قرار دیا ہے۔ بے شک حیا کا غلط استعمال بعض وقت اچھی باتوں سے بھی انسان کو روک دیتا ہے۔ مگر یہاں ایسی حیا مراد نہیں ۔ امام بخاری نے ایمان کی بحث کے ضمن میں حیا کے متعلق جو ایک مستقل باب قائم کیا ہے اس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ایمان کا تعلق زیادہ ترنفسی کیفیات سے ہے۔ اسلام ان کیفیات کو ظاہر میں ایک عملی وجود دیتا ہے۔ اسلام کیا ہے؟ انسان کے ظاہر کا اس کی اپنی معنویات کے جو ایمان کے اجزاء ہیں تابع ہو جانا۔ باب ۱۷ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ (التوبة: ٥) اگر وہ رجوع کر لیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ دیں تو اُن کا راستہ چھوڑ دو ٢٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۵: ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا الْمُسْتَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْحِ کہ ہم سے ابو روح حرمی بن عمارہ نے بیان کیا۔ الْحَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ انہوں نے کہا کہ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے واقد بن محمد سے روایت کی ۔ کہا کہ میں نے اپنے عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي باپ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمر سے بیان کرتے تھے يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ ہے کہ میں ان لوگوں ۔ ان لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا وہ یہ اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد تک کہ