صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 60
صحيح البخاری جلد ا ۶۰ ٢ - كتاب الإيمان حَلَاوَةَ الْإِيْمَانِ مَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پالیتا ہے۔ عَبْدًا لَّا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ بڑھ کر پیارے ہوں اور وہ جو کسی شخص سے محبت سے بڑھ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ أَحَبَّ وہ شخص جس کو اللہ اور اس کا رسول دوسری تمام چیزوں که شخص رکھے اور محض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اس سے محبت يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ كَمَا رکھے اور وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے کفر سے چھڑایا ہوا اور يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ ۔ اطرافه ١٦ ، ٦٠٤١، ٦٩٤١۔ پھر اس کے بعد وہ کفر میں لوٹنا ایسا ہی نا پسند کرے جیسا آگ میں ڈالا جانا۔ میں گذر چکا ہے۔ اس حدیث کی سند پہلی حدیث کی سند حدیث نمبر ۱۶ باب حلاوت الایمان میں گذر ج تشریح یہ مضمون حدیث نمبر ۱ سے مختلف ہے۔ امام بخاری علیہ الرحمۃ استنباط احکام وغیرہ کے لئے جب بھی کسی حدیث کو دہرائیں گے تو حتی الوسع اس کو ایک نئی سند کے ساتھ بیان کریں گے۔ تاکہ سند کے تعدد کی وجہ سے اس کی صحت کو اور بھی تقویت حاصل ہو۔ یہاں پر مستقل باب باندھنے سے یہ بتلانا مقص یہ بتلانا مقصود ہے کہ کفر جو ایمان کی ضد ہے اس سے نفرت کرنا بھی ایمان کا جزو ہے۔ سفر کے معانی عربی زبان میں ڈھانپنا، تاریکی کا چھا جانا۔ تاریکی تمام چیزوں کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔ اس میں سیاه و سفید کی تمیز نہیں رہتی ۔ اس لیے کفر وہ جہالت کی تاریکی ہے جو برے بھلے اور حق و ناحق میں تمیز نہیں کرنے دیتی۔ قرآن مجید نے اس وجہ سے کفر کو ظلمات یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ایمان کو نور سے۔ نفس مضمون کے ساتھ تعلق کے لیے حدیث نمبر ۱۶ کی تشریح ملاح ملاحظہ ہو۔ بَاب ١٥ : تَفَاضُلُ أَهْلِ الْإِيْمَانِ فِي الْأَعْمَالِ ایمان والوں کا اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہونا ۲۲ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۲۲ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِي مجھے بتلایا۔ انہوں نے عمرو بن کی مازنی سے عمرو نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جنتی جنت میں وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ داخل ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں ۔ پھر اللہ تعالیٰ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ الله تَعَالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی