صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 49 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 49

صحيح البخاری جلد ا لدها ٢ - كتاب الإيمان اچھے ہوں گے۔ یہ مفہوم ہے اس حدیث کا۔ چنانچہ اس کا دوسرا حصہ الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ بھی اس مفہوم کی تائید کرتا ہے۔ اصل مہاجر وہ ہے جو منہیات یعنی بدیوں کو چھوڑ دے۔ شارحین نے یہاں ایک سوال اٹھایا ہے کہ مسلمانوں کی یہاں تخصیص کیوں کی ہے؟ امام ابن حجر اور علامہ عینی وغیرہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ چونکہ معاملات میں ایک مسلمان کا واسطہ اکثر مسلمانوں سے پڑتا ہے۔ اس لئے اغلب حالت کو مد نظر رکھ کر مسلمانوں کا نام لیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵- عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۳۳) یہ صحیح ہے۔ جیسا کہ اس کا جواب خود امام بخاری نے بھی اگلی حديث تَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تَعْرِف (حدیث نمبر۱۲) سے دیا ہے۔ بَابه : أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ اسلام میں کون سا عمل سب سے بہتر ہے ۱۱ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ 11: ہم سے سعید بن یحی بن سعید (اموی ) قرشی نے سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ بیان کیا، کہا: میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ انہوں نے کہا: ابو بردہ بن عبد اللہ بن ابی بردہ نے أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَیٰ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ ابو بردہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: صحابہ نے پوچھا: یا رسول الله ! أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ اسلام کا کون ساعمل سب سے بہتر ہے؟ فرمایا: اس الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔ شخص کا عمل جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ بَاب ٦ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ مِنَ الْإِسْلَامِ کھانا کھلانا بھی اسلام کا ہی ایک جزو ہے ۱۲: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ قَالَ ۱۲: ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا:لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یزید سے، یزید نے ابوالخیر عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ ہے، ابوالخیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا