صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 48 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 48

صحيح البخاری جلد ا ۴۸ ٢ - كتاب الإيمان نَهَى اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ اس بات کو جسے اللہ نے منع فرمایا ہے چھوڑ دے۔ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ ابو عبد اللہ (بخاری) نے کہا: اور ابو معاویہ نے بھی سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہا کہ داؤد ( بن ابی ہند ) نے عامر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ عمرو سے سنا۔ وہ یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ روایت کرتے تھے اور عبدالاعلیٰ نے بھی داؤد سے۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه: ٦٤٨٤۔ داؤد نے عامر سے۔ عامر نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے۔ حضرت عبد اللہ نے نبی ﷺ سے یہی نقل کیا۔ تشريح : الْمُسْلِمُ ال جو الْمُسْلِمُ میں ہے۔ بعض شارحین کے نزدیک عہد خارجی ہے جو اظہار کمال کے لئے آتا ہے۔ یعنی کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ یعنی نہ قول سے کسی کو تکلیف دے اور نہ فعل ہے۔ چونکہ انسان زبان سے برے بھلے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور ہاتھ سے اکثر کام انجام دیتا ہے۔ اس لئے مراد مطلق قول و فعل ہے۔ یعنی : ہے۔ یعنی نہ ہنسی ٹھٹھے سے، نہ گالی گلوچ سے، نہ طعن و تشنیع سے، نہ غیبت و تہمت سے کسی کا دل دکھائے اور نہ ہاتھ سے کسی کو آزار پہنچائے ۔ جیسے مارنا قتل کرنا، چوری کرنا۔ غرض ہر قسم کا ناجائز تصرف ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵- عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۳۲) لیکن آل یہاں کسی کمال کے اظہار کے ۔ قطعاً نہیں، بلکہ جنسیہ ہے۔ مطلق تعریف کے معنے ہیں۔ کیونکہ اسلامی اصول کے اعتبار سے ترک ایڈ کمال نہیں بلکہ ابتدائی جنسیہ ہے۔ حالت ہے۔ مسلمان کا کمال یہ ہے: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ ۔ (البقرہ:۱۱۳) کہ اپنی مرضی نفس سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی میں ہو کر اس کا کھانا اور پینا، اس کا مرنا اور جینا اور اس کا ہر عمل صادر ہو اور اس کی رضا کے لئے نیکیاں بجالائے۔ لئے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: اسلامی اصول کی فلاسفی زیر عنوان : انسان کی تدریجی ترقی ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۲۴-۳۲۵) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اگلی حدیث سے اس حدیث کے اصل مفہوم کو واضح کر دیا ہے۔ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ اسلام کا کونسا عمل سب سے اچھا ہے ؟ بجائے اس کے کہ آپ اُن کو وہ عمل بتلائیں یہ جواب دیتے ہیں: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ۔ یعنی جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ یعنی ایسے شخص کا ہر عمل ہی اچھے سے اچھا ہوگا۔ اس کا ایمان بھی اچھا ، اس کی نماز بھی اچھی ، اس کا روزہ بھی اچھا ، اس کی زکوۃ بھی اچھی ۔ اس کے بغیر اس کا کوئی عمل بھی اچھا نہیں۔ یعنی سچا مسلمان بننے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں۔ اسلام کی رو سے ترک شر روحانی ترقی میں پہلا زینہ ہے۔ جب اس پر چڑھ گیا تو پھر اس کے سارے اعمال