صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 47 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 47

صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَان : امام ابن حجر اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہا نے حیا کے متعلق یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ ایک طبعی قوت ہے۔اس کو ایمان سے کیوں شمار کیا گیا تو انہوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ چونکہ حیا ایک مانع ہے جو بدیوں سے روکتا ہے اور نیز محرک ہے نیکیاں کرنے کا۔اس لئے مثال کے لئے اس اعلیٰ صفت کو اختیار کیا گیا ہے۔ایک دوسری حدیث میں حیا کے متعلق آتا ہے: اَلْحَيَاء خَيْرٌ كُلُّهُ۔(مسلم، کتاب الايمان۔باب بيان عدد شعب الایمان) حيا ساری کی ساری بھلائی ہے۔چونکہ ایمان کے باقی شعبوں کا یہ ایک سبب اور ذریعہ ہے۔اس لئے اس کو بطور مثال کے چنا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳ے۔عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۲۹) خود ایمان بھی اصل میں ایک فطرتی تقاضا ہے۔جس کو انسان کسی نہ کسی رنگ میں پورا کرتا ہے اور یہ تقاضا مخفی طور پر انسان کے اختیاری یا غیر اختیاری افعال میں جھلک دکھلاتا رہتا ہے۔حتی کہ دہر یہ انسان بھی مخصوص حالات میں اس تقاضائے طبعی کے اظہار کے لئے بعض اوقات مجبور ہو جاتا ہے اور ایمان کے وسیع معنوں کے اعتبار سے کوئی فرد بشر مقتضائے ایمان سے خالی نہیں۔مسلم نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ۔(مسلم كتاب الايمان۔باب بيان عدد شعب الایمان) یعنی ان شعبوں میں سے سب سے اعلیٰ شعبہ لَا اِلهَ إِلَّا الله ہے اور ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ہے۔امام بخاری کی یہ روایت زیادہ مشہور اور زیادہ صحیح ہے۔امام ابن حجر اور علامہ عینی نے ان شعبوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔امام بخاری کا مقصد کتاب الایمان میں ایمان، اسلام، کفر و نفاق کے مفہوم کو واضح کرنا ہے۔نیز یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایمان کے مفہوم میں اعمال شامل ہیں ، جیسا کہ اسلام کے مفہوم میں ایمان شامل ہے۔اس سے آپ مرجیہ فرقہ کے فتنہ کا سد باب کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ آگے جا کر اس فرقہ کا خصوصیت سے نام بھی لیا ہے۔بَاب : : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں ١٠: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ ۱۰ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبد اللہ بن ابی سفر السَّفَرِ وَإِسْمَاعِيْلَ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ اور اسماعیل سے۔ان دونوں نے شعبی سے۔شعبی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے۔انہوں عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ نے فرمایا: اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ لَّسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا سے مسلمان سلامتی میں رہیں اور اصل مہاجر وہ ہے جو