صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 46
صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : ہم سے عبداللہ بن محمد ( جعفی ) نے بیان کیا، کہا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا کہ ہم سے ابو عامر عقدی نے بیان کیا۔ ابو عامر نے سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ کہا: سلیمان بن بلال نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ عبد اللہ بن دینار سے۔ عبد اللہ نے ابو صالح سے۔ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُوْنَ کی ک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ساتھ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيْمَانِ۔ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ یت یہ ہے: تشریح : أُمُورُ الإِيمَانِ : اس باب میں ایک تو وہ آیت ہے جس کاترجمہ کر دیا گیا ہے اور دوسری آیت قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِلرَّكُوةِ فَاعِلُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ ۔ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ۔ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَدُونَ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لَا مُنْتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رَعُوْنَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوْ تِهِمْ يُحَافِظُونَ۔ أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ۔ ( المؤمنون: ۲-۱۱) یقینا مومن کامیاب ہو گئے ۔ وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور وہ جو لغو سے اعراض کرنے والے ہیں۔ اور وہ جو زکوۃ ( کا حق ) ادا کرنے والے ہیں۔ اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے نہیں یا اُن سے ( بھی نہیں ) جن کے اُن کے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ۔ پس یقیناً وہ ملامت نہیں کئے جائیں گے۔ پس جو اس سے ہٹ کر کچھ چاہے تو یہی لوگ ہیں جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں پر محافظ بنے رہتے ہیں۔ یہی ہیں وہ جو وارث بننے والے ہیں ۔} پہلی آیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ظاہری اعمال کچھ حقیقت نہیں رکھتے جب تک ایمانی حالت صحیح نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں عملی پہلو پر زور دیا گیا ہے یعنی ظاہری اعمال کو صحیح طور پر بجالانے کے بغیر کسی کامیابی کی امید نہیں ہوسکتی۔ نماز میں خشوع و خضوع ہو۔ زکوۃ کے ساتھ شہوات پر قابو رکھتے ہوئے تزکیہ نفس بھی ہو۔ یعنی ایمان اعمال کے ساتھ اور اعمال اپنی اصلی روح کے ساتھ بار آور ہو سکتے ہیں۔ دونوں آیتوں کا تعلق ایمان و اعمال کے ساتھ نہایت واضح ہے اور پہلی آیت کی مناسبت باب کے ساتھ اس سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت ابوذر نے آنحضرت ﷺ سے ایمان کے صلى الله عليه۔ متعلق پوچھا تو آپؐ نے آیت لَيْسَ الْبِرَّ اَن : رَّ اَنْ تُوَلُّوا ۔۔۔۔ پڑھ دی ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ اے ) یہ امام بخاری کے حسن انتخاب کی ایک مثال ہے۔