صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 44
صحيح البخاری جلد ا مام ٢ - كتاب الإيمان نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک واضح راستہ بنایا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرة: ۱۴۹) تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ ” شِرْعَة " سے مراد شریعت یعنی اصول دین جن کی بناء وحی الہی پر ہے اور مِنْهَاج اج " کھلا کھلا راستہ جس کی بناء مشاہدات پر ہے اور اس سے مراد انبیاء کا وہ عملی نمونہ بھی ہے، جو وہ اپنی قوم کے سامنے پیش کر کے احکام شریعت کو واضح کر دیتے ہیں۔ جسے سنت نبوی کہتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی بناء پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس وہم کا کہ انبیاء کے درمیان اصول دین میں اختلاف ہوتا ہے رڈ کیا ہے۔ ہاں فروعات میں جہاں عقل کا دخل ہوتا ہے اختلاف ہوتا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۹ ) مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ : قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ : فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا۔ (الفرقان: ۷۸) یعنی کہو! میرا رب تمہاری کیا پرواہ کرتا ہے اگر تمہاری دعا نہ ہو۔ تم نے جھٹلا تو دیا ہی ہے۔ اب اس فعل کا وبال بھی ضرور پڑے گا۔ حضرت ابن عباس نے یہاں دُعَاؤُ کم کے معنی ایمان کے کئے ہیں۔ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام بخاری نے حوالہ مذکورہ بالا سے یہ ثابت کیا ہے کہ لفظ ایمان عمل پر بھی اطلاق پاسکتا ہے۔ جیسا کہ دعا جو کہ عمل ہے اس سے مراد ایمان لیا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۹) لیکن اس آخری حوالہ سے ماقبل جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مضمون کو اگر مد نظر رکھا جائے تو امام بخاری کی مراد واضح ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس قسم کے اجتہادی اختلاف صحابہ میں بھی موجود تھے۔ جس سے اصول دین میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا اور نہ صحابہ کرام اس وجہ سے کوئی نیا مذہب قائم کرتے تھے۔ باب ۲ : دُعَاؤُكُمْ إِيْمَانُكُمْ تمہاری دعا تمہارا ایمان ہے : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى قَالَ : ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حنظلہ بن ابی سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عکرمہ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ ابن خالد ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صلى الله اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمد (ﷺ) مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ الله کے رسول ہیں اور نماز کو سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ طرفه ٤٥١٤۔