صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 475
صحيح البخاری جلد ا ۴۷۵ - كتاب الصلوة وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَسْنَدُ وَحَدِيْثُ جَرْهَدٍ حضرت انس کی حدیث سند میں زیادہ قوی ہے اور أَحْوَطُ حَتَّى يُخْرَجَ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ وَقَالَ حضرت جرھڈ کی حدیث میں زیادہ احتیاط ہے۔ یہ أَبُو مُوسَى غَطَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس لئے کہ تا ان کے اختلاف سے نکلا جائے۔ اور وَسَلَّمَ رُكْبَتَيْهِ حِيْنَ دَخَلَ عُثْمَانُ وَقَالَ حضرت ابوموسی نے کہا: جب حضرت عثمان اندر آئے زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُوْلِهِ صَلَّی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنے ڈھانک لئے اور اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حضرت زید بن ثابت نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى خِفْتُ أَنْ تَرْضَ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی ) نازل کی اور آپ کی ران میری ران پر تھی ۔ وہ اس قدر مجھ پر بوجھل ہو گئی فَخِذِي۔ کہ میں ڈرا کہ کہیں میری ران نہ ٹوٹ جائے۔ ۳۷۱: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۳۷۱ : ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ اسماعیل بن علیہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبد العزیز حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ بن صہیب نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر حملہ کیا اور ہم نے اس کے قریب جا کر صبح کی نماز خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسِ بھی جبکہ ابھی اندھیرا ہی تھا۔ پھر نبی اللہ صل اللہ علیہ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسلم سوار ہوتا سوار ہوئے اور حضرت ابوط ابو طلحہ بھی سوار ہوئے او اور وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيْفُ أَبِي طَلْحَةَ میں حضرت ابو طلحہ ابوطلحہ کے ساتھ پیچھے سوار تھا۔ نبی اللہ صلی فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی گلی میں گھوڑا دوڑایا اور میرا گھٹنا زُقَاقِ خَيْبَرَ وَ إِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِي نبی اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ران کے ساتھ چھورہا تھا۔ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ پھر آپ نے اپنی ران سے تہ بند ہٹا دی ہٹا دیا یہاں تک کہ میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ران کی سفیدی دیکھتا عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ تھا۔ جب آپ گاؤں میں داخل ہوئے اور فرمایا: اللہ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ ہی سب سے بڑا ہے۔ خیبر ویران ہو گیا۔ ہم جب کسی