صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 680
صحیح البخاری جلد ۱۶ وَيَرْزُقُهُمْ۔الْوَلَدَ ثُمَّ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُ ۶۸۰ ۹۷- كتاب التوحيد بڑھ کر اور کوئی صبر کرنے والا نہیں۔وہ اُس کا بیٹا پکارتے ہیں پھر بھی وہ ان کو عافیت دیتا ہے اور رزق بھی دیتا ہے۔طرفه: ٦٠٩٩ - تشریح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى إِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ اللَّه تعالی کایہ فرمانا: یقینا اله ہی ہے جو بہت رزق دینے والا، صاحب قوت ( اور ) مضبوط صفات والا ہے قَوْلُ اللهِ تَعَالَى إِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَةِ الْمَتِينُ : حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ اس کی صفت رزاقیت ہر سمت میں جلوہ دکھاتی ہے اگر اس کے رزق کو ناپاک ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تب بھی وہ رزق ختم نہیں ہوتا اور پاکیزہ ذرائع سے تو وہ ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ایک لامتناہی وجود ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو کہیں ختم نہیں ہوتا۔منکرین انکار کا رزق کھاتے ہیں اور کھاتے چلے جاتے ہیں اور نئے نئے رستے اُن پر کھلتے چلے جاتے ہیں اور کوئی ایک ایسی جگہ نہیں آتی کہ وہ کہیں کہ اب خدا کا رزق ہم پر بند ہو گیا ہے۔تکذیب کی نئی راہیں نکال لیتے ہیں اور نئے رستے رزق کے کھل جاتے ہیں۔“ ( خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ / جولائی ۱۹۸۵ء، جلد ۴ صفحه ۶۴۲) مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللهِ: حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کے صبور ہے ، سب سے زیادہ صبر دکھانے والا ہے یعنی بندے دکھ دیتے ہیں، احسانات کو بھلاتے ہیں اور بار بار خدا تعالیٰ کے لئے اگر وہ انسانی جذبات ہوں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں اذیت کا موجب بنتے ہیں حالانکہ اللہ کے لئے کوئی اذیت کا موجب نہیں بن سکتا۔مگر ان کا عمل ایسا ہے گویا وہ خدا کو اذیت پہنچانے سے بھی باز نہیں آتے۔“ نیز فرمایا: خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۹/ ستمبر ۱۹۹۵ء، جلد ۱۴ صفحه ۷۳۳) " قرآن کریم میں کہیں صفات باری تعالیٰ یا اسمائے باری تعالیٰ کے طور پر صبور اور صبار کے الفاظ نہیں ملتے۔جبکہ حدیث میں ملتے ہیں۔سوال ہے کہ قرآن کریم