صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 659 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 659

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۵۹ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة لِمَنْ شَاءَ خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ جو پڑھنا چاہے۔اس لئے کہ آپ نے ناپسند فرمایا کہ کہیں لوگ اس کو دستور نہ بنالیں۔طرفه: ۱۱۸۳۔ريح : نَلَى النَّبِيِّ ﷺ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلَّا مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ: ان چیزوں کے سوا جن کا جائز ہونا معلوم ہو، کسی اور چیز کو حرام قرار دینے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منع فرماتا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حلال چیز کو حرام کر دینے کی کئی صورتیں ہیں۔(۱) اللہ کی نافرمانی کی جس کی وجہ سے وہ بیمار ہوا اور اچھی چیزوں سے محروم رہ گیا۔(۲) قوم کے پاس سلطنت ہو تو بہت سی طیب چیزیں اس کے پاس رہتی ہیں۔پس اپنے آپ کو قرآن کے خلاف چل کر سلطنت سے محروم نہ کرنا۔(۳) اس زمانہ میں مسیح موعود آیا، اگر تم سب کے سب اس کے مطیع ہوتے تو پھر ان طیبات سے حصہ پاتے جن سے اسلامی محروم ہو چکے۔(۴) بعض لوگ مجاہدہ کے طور بعض طیب چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں۔( حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحه ۱۲۳ باب ۲۸: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمُ (الشورى: ٣٩) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور ان کا طریق یہ ہے کہ اپنے ہر معاملہ کو باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں وَشَاوِرُهُمْ فِي الأمر (آل عمران: ۱۶۰) (اور نیز یہ فرمایا:) اور حکومت (کے معاملات) میں اُن سے مشورہ (لیا) کر۔وَأَنَّ الْمُشَاوَرَةَ قَبْلَ الْعَزْمِ وَالتَّبَيُّنِ اور یہ کہ پختہ ارادہ کرنے اور خوب کھول کر بیان لِقَوْلِهِ تَعَالَى فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ کرنے سے پہلے مشورہ کرنا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا (آل عمران : ١٦٠)، فَإِذَا عَزَمَ الرَّسُولُ ہے: پھر جب تو (کسی بات کا ) پختہ ارادہ کرلے تو اللہ پر توکل کر۔پھر جب رسول اللہ صلی ا یہ عزم کر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِبَشَرٍ میں تو پھر کسی آدمی کے شایاں نہیں کہ وہ اللہ اور اس التَّقَدُّمُ عَلَى اللهِ وَرَسُولِهِ وَشَاوَرَ النَّبِيُّ کے رسول پر پیش قدمی کرے اور نبی مئی ایم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ جنگ اُحد کے دن مدینہ میں ٹھہرا رہنے یا باہر نکلنے 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں گراهیة“ ہے۔(فتح الباری، جزءوا احاشیہ صفحہ ۴۱۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔