صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 658 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 658

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۵۸ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔أَمَرَنَا أَنْ نَّحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا فَنَأْتِي عَرَفَةَ جائز قرار دیا تھا۔پھر آپ کو یہ خبر پہنچی کہ ہم یہ کہہ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَدْيَ قَالَ وَيَقُولُ رہے ہیں۔جب ہمارے اور عرفات کے درمیان جَابِرٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَحَرَّكَهَا فَقَامَ رَسُولُ صرف پانچ راتیں ہی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ ہم نے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ ہمیں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ عورتیں ہمارے لئے عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ جائز ہیں تو ہم عرفات اس حالت میں جائیں گے کہ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا ہمارے ازدواجی تعلق کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تَحِلُّونَ فَحِلُّوا فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ ہو گا۔عطاء نے کہا: اور حضرت جابر اپنے ہاتھ سے أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ فَحَلَلْنَا اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے اور عطاء نے ہاتھ ہلایا۔(یہ سن کر ) رسول اللہ صلی الله کم کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں بخوبی علم ہو چکا ہے کہ میں اللہ کی نافرمانی سے تم سے زیادہ بیچنے والا ہوں اور تم سے زیادہ راستباز ہوں اور تم سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میں نے قربانی کے جانور آگے نہ بھیج دیئے ہوتے تو میں بھی اسی طرح احرام کھول دیتا جس طرح تم کھولو گے اس لئے تم احرام کھول ڈالو اور اگر میں اپنے معاملہ کو پہلے سے جان لیتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں قربانی نہ بھیجتا، تو ہم نے احرام کھول ڈالے اور آپ کا حکم سنا اور مان لیا۔٧٣٦٨: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۷۳۶۸: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حسین سے حسین نے ابن عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ بریدہ سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ مزنی نے بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنِ مجھے بتایا۔انہوں نے نبی صلی الی و کم سے روایت کی۔النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا آپ نے فرمایا: مغرب کی نماز ہے پہلے نماز پڑھو۔قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ تیری بار آپ نے فرمایا: یہ اس شخص کے لئے ہے