صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 642
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ کہا: ہم میں سے جو چھوٹے ہیں وہ بھی شہادت دے أطرافه: ٢٠٦٢، ٦٢٤٥ - سکتے ہیں۔ اس پر حضرت ابو سعید خدری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: بے شک ہمیں یہی حکم دیا جاتا تھا تو حضرت عمر کہنے لگے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر پوشیدہ رہا۔ بازاروں میں خرید و فروخت نے مجھے غافل رکھا۔ ٧٣٥٤ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ۷۳۵۴ : علی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنَ الْأَعْرَجِ بتایا زہری نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اعرج يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّكُمْ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابو ہریرہ نے مجھے تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ بتایا۔ انہوں نے کہا: تم یہ خیال کرتے ہو کہ ابو ہریرہ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد الله رسول اللہ صلی علیم کی بہت باتیں سناتا ہے۔ سب ۔ نے اللہ کے پاس جانا ہے۔ میں ایک مسکین آدمی تھا، اپنا وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأَ مِسْكِينًا پیٹ بھر کر رسول اللہ صلی اللی سیم اللہ صلی علی روم سے چمٹا رہتا تھا اور أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مہاجرین ایسے تھے کہ بازاروں میں ان کو خرید و عَلَى مِلْءِ بَطْنِي وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ فروخت مشغول رکھتی اور انصار جو تھے ان کی يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَكَانَتِ جائیدادوں کی نگرانی ان کو مشغول رکھتی۔ ایک دن الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ میں رسول الله صلى السلام اللہ صلی السلام کے پاس موجود تھا تو آپ نے فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ فرمایا: جو شخص اپنی چادر اس وقت تک بچھائے رکھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَالَ مَنْ يَبْسُطُ گاجب تک میں اپنی بات ختم نہ کرلوں، پھر اس کو رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي ثُمَّ يَقْبِضُهُ سمیٹ لے گا تو وہ بھی کچھ سمیٹ لے گا تو وہ کبھی کچھ نہیں بھولے گا جو اُس نے مجھ سے سنا ہو۔ (یہ سن کر) میں نے اپنی چادر بچھا فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي فَبَسَطْتُ دی جو مجھ پر ہوا کرتی تھی۔ اُس ذات کی قسم ہے بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا، میں کبھی کچھ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ۔ نہیں بھولا جو میں نے آپ سے سن لیا۔ أطرافه: ۱۱۸ ، ۱۱۹ ، ٢٠٤۷، ٢٣٥٠ ، ٣٦٤٨۔ ا