صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 640
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۴۰ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرٍ يزيد بن عبد اللہ) کہتے تھے: میں نے ابو بکر بن عمرو بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي بن حزم سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بھی حضرت ابوہریرہ هُرَيْرَةَ۔ وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے ایسے ہی بیان کیا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي اور عبد العزیز بن مطلب نے بھی عبد اللہ بن ابو بکر سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے اسی طرح سے اسی طرح نقل کیا۔ عبد اللہ نے ابو مِثْلَهُ۔ ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ۔ أَجْرُ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَ : حاکم کا ثواب اگر وہ پوری پوری کوشش کرے پھر صحیح فیصلہ کو پہنچ جائے یا غلطی کرے۔ ابن منذر کہتے ہیں کہ حاکم کے لیے خطا کرنے پر اجر صرف اسی صورت میں ہے کہ وہ اجتہاد کرنے کے قابل عالم ہو ، پھر وہ ( صحیح فیصلہ کو پہنچنے کے لیے ) پوری جدوجہد (بھی) کرے لیکن اگر وہ عالم نہ ہو تو پھر اس کے لیے ) ایسا نہیں ہے۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ ان کا یہ استدلال اس حدیث سے ہے جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے قاضیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۱۳ صفحه ۳۸۹) وہ حدیث یہ ہے: حضرت بریدہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک تو جنت میں ہے اور دو آگ میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: جنتی جو ہے تو وہ ایسا شخص ہے جو حق کو اچھی طرح پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ شخص جو حق کو پہچان لینے کے بعد پھر فیصلہ کرنے میں ظلم کرے تو وہ آگ میں ہے۔ اور وہ شخص جس نے جہالت پر رہتے ہوئے لوگوں کے فیصلے کیے تو وہ (بھی) آگ میں ہے۔' حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: " ہر قاضی کو خالی الذہن ہو کر ، دعا کر کے ، پھر معاملہ کو شروع کرنا چاہیئے۔ کبھی کسی بھی فریق کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ قاضی نے دوسرے فریق کی بات زیادہ توجہ سے سن لی ہے یا فیصلے میں میرے نکات کو پوری طرح زیر غور نہیں لایا اور دوسرے کی طرف زیادہ توجہ رہی ہے۔ گو جس کے خلاف فیصلہ ہو عموماً اُس کو شکوہ تو ہوتا ہی ہے لیکن قاضی کا اپنا معاملہ پوری طرح صاف ہونا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی حاکم سوچ سمجھ کر الدرس ا (سنن ابی داود، كتاب الأقضية، باب فى القاضي يخطئ، روایت نمبر ۳۵۷۳)