صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 607
صحیح البخاری جلد ۱۶ الانْتِفَاءِ مِنْهُ۔ أطرافه: ٥٣٠٥، ٦٨٤٧ - ۲۰۷ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة آپ نے فرمایا: شاید یہ بھی کوئی رگ ہو جس نے اس بچے کو اپنے ہم شکل کر لیا ہو اور آپؐ نے اُس کو اجازت نہ دی کہ اُس بچے سے انکار کرے۔ ٧٣١٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۳۱۵ : مسددنے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو بشر سے ، ابو بشر نے سعید جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس سے إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ روایت کی کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ پاس آئی کہنے لگی: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر حج کرنے سے پہلے وہ مر گئی تو کیا میں اس أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ نَعَمْ حُجِّي کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ کی طرف سے حج کر لو۔ بھلا بتاؤ تو سہی اگر تمہاری أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا ماں کے ذمے کچھ قرض ہو تو کیا تم اسے پکاؤ گی؟ الَّذِي لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر جو اللہ کا أطرافه: ١٨٥٢، ٦٦٩٩- ہے وہ بھی تم چکاؤ کیونکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کا حق ادا کیا جاوے۔ بَاب ۱۳ : مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقَضَاءِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق قاضیوں کے اجتہاد کرنے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں لِقَوْلِهِ: وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جو (لوگ) اس فأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (المائدة : ٤٦)۔ (کلام) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی (حقیقی) ظالم ہیں۔ وَمَدَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صل اللہ اول کا دانشمند کی تعریف کرنا جبکہ وہ حکمت صَاحِبَ الْحِكْمَةِ حِينَ يَقْضِي بِهَا سے فیصلہ کرے اور لوگوں کو حکمت سکھائے اور ا عمدة القاری میں الفاظ اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ ۵۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔