صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 600
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰۰ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة چھوڑ دی اور وہ ایسے باغ کی طرح ہو گئے جس کا کوئی باغبان نہیں اور جس کی آبپاشی اور صفائی کے لئے کوئی انتظام نہیں اس لئے رفتہ رفتہ اُن میں خرابیاں پیدا ہو گئیں۔تمام پھل دار درخت خشک ہو گئے اور اُن کی جگہ کانٹے اور خراب بوٹیاں پھیل گئیں اور روحانیت جو مذہب کی جڑھ ہوتی ہے وہ بالکل جاتی رہی اور صرف خشک الفاظ ہاتھ میں رہ گئے مگر خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سرسبز رہے اس لئے اُس نے ہر یک صدی پر اس باغ کی نئے سرے آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا۔اگرچہ ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کے لئے قائم ہو ا جاہل لوگ اُس کا مقابلہ کرتے رہے اور ان کو سخت ناگوار گذرا کہ کسی ایسی غلطی کی اصلاح ہو جو اُن کے رسم اور عادت میں داخل ہو چکی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اس آخری زمانہ میں جو ہدایت اور ضلالت کا آخری جنگ ہے۔خدا نے چودھویں صدی اور الف آخر کے سر پر مسلمانوں کو غفلت میں پا کر پھر اپنے عہد کو یاد کیا اور دین اسلام کی تجدید فرمائی۔مگر دوسرے دینوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تجدید بھی نصیب نہیں ہوئی اس لئے وہ سب مذہب مر گئے۔اُن میں روحانیت باقی نہ رہی اور بہت سی غلطیاں اُن میں ایسی جم گئیں کہ جیسے بہت مستعمل کپڑا پر جو کبھی دھویا نہ جائے میل جم جاتی ہے اور ایسے انسانوں نے جن کو روحانیت سے کچھ بہرہ نہ تھا اور جن کے نفس امارہ سفلی زندگی کی آلائشوں سے پاک نہ تھے اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق اُن مذاہب کے اندر بے جادخل دے کر ایسی صورت اُن کی بگاڑ دی کہ اب وہ کچھ اور ہی چیز ہیں۔“ (لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۳، ۲۰۴) بَاب :۱۱: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا ( الأنعام : ٦٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یادہ الجھنوں میں ڈال کر تمہیں کئی فرقے کر دے ۷۳۱۳: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۷۳۱۳ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو الدِّيْنَارُ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عمر و دینار نے سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ :کہا: میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما