صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 581
صحیح البخاری جلد ۱۶ فَدَعَا ΟΛΙ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بِهِمَا فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا ثُمَّ قَالَ فرمایا: اللہ نے تمہارے متعلق قرآن نازل کر دیا عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ ہے۔پھر آپ نے ان دونوں (میاں بیوی ) کو بلایا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَلَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ اور وہ آگے بڑھے اور انہوں نے آپس میں لعان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا فَجَرَتِ کیا۔پھر اس کے بعد عویمر کہنے لگے : یارسول اللہ ! اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھا تو میں نے اس کے السُّنَّةُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَقَالَ النَّبِيُّ متعلق جھوٹ کہا۔یہ کہہ کر عویمر اس سے جدا ہو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوهَا فَإِنْ گئے حالانکہ نبی صلی اللی تم نے اس سے علیحدگی کا انہیں جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا مِثْلَ وَحَرَةٍ حکم نہیں دیا تھا۔آخر لعان کرنے والوں کے متعلق فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ ہی طریقہ جاری ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَحْسِبُ فرمایا: اس عورت کو دیکھتے رہو ، اگر تو وہ سرخ رنگ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى کا پست قد بچہ جنی جیسے چھوٹا گرگٹ ہوتا ہے تو میں الْأَمْرِ الْمَكْرُوهِ۔سمجھتا ہوں کہ اس شخص نے جھوٹ بولا اور اگر وہ سانولے رنگ کا بڑی آنکھوں والا بڑے سرینوں والا جنی تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق سچ کہا ہے۔آخر وہ اسی مکر وہ حلیہ کے مطابق جنی۔أطرافه: ٤٢٣، ٤٧٤٥، ٤٧٤، ۰۲٥٩، ۳۰۸، 5309 6854، 7165، 7166- ٧٣٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۳۰۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ لیث نے ہمیں بتایا۔عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مالک بن اوس نصری نے مجھے بتایا اور محمد بن جبیر النَّصْرِيُّ وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ بن مطعم نے مجھ سے اس کا کچھ ذکر کیا تھا ( جو سن کر) مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ ذَلِكَ فَدَخَلْتَ میں مالک کے پاس گیا اور میں نے ان سے پوچھا تو عَلَى مَالِكِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ انْطَلَقْتُ حَتَّى انہوں نے کہا: میں چل پڑا اور حضرت عمر کے پاس أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ اندر گیا۔اتنے میں ان کا دربان پر فا ان کے پاس هَلْ لَّكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ آیا اور کہنے لگا: کیا آپ حضرت عثمان اور حضرت