صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 560
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۶۰ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ مجھے بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی الم سے روایت کی۔فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ آپ نے فرمایا: جب تک میں تم سے کچھ نہ کہوں تم مجھے رہنے دیا کرو کیونکہ جو تم سے پہلے تھے وہ اسی سُؤَالُهُمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ لئے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں سے سوالات فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ کرتے اور ان سے اختلاف کیا کرتے تھے۔جب وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا میں تم کو کسی بات سے روکوں تو تم اس سے رُک جاؤ اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو تم اسْتَطَعْتُمْ۔اس کو بجالا ؤ جہاں تک تم سے ہو سکے۔تشریح: الاقْتِدَاءُ بِسُنَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کی پیروی کرنا۔زیر باب پہلی روایت نمبر ۷۲۷۵) میں حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ کا ذکر ہے جو کہ کعبہ کے دربان تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شیبہ اور ان کے چچازاد بھائی (حضرت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ ) کو کعبہ کی چابیاں دیتے ہوئے فرمایا تھا: خُذُوا یا تیپی أَبِي طَلْعَةَ خَالِدَةٌ تَالِدَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لا يَأْخُذُ مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمُ۔(عمدة القارى، جزء ۹ صفحہ ۲۳۶، ۲۳۷) اے بنی ابی طلحہ ! تم اسے قدیم سے رکھنے کی وجہ سے قیامت تک رکھو۔تم سے یہ ظالم کے سوا کوئی نہیں لے گا۔اس روایت میں ذکر ہے کہ حضرت عمر نے عامۃ الناس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خانہ کعبہ میں موجود سونا چاندی غرباء میں تقسیم کرنے کا ارادہ فرمایا تو در بان کعبہ حضرت شیبہ نے حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کا حوالہ دیا کہ انہوں نے یہ کام نہیں کیا تو کیا آپ ان کے طریق کو نہیں اپنائیں گے ؟ تو حضرت عمر نے فرمایا : کیوں نہیں۔وہ وجود تو ہمارے مطاع و مقتداء ہیں۔ان کی اقتداء ہی ہمارا مشن ہے۔امام بخاری انہی الفاظ پر توجہ مبذول کرانے کے لئے یہ روایت لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کی سنت کی اقتداء ہی منشائے شریعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اقتداء اور اطاعت ہی خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "خد اتعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے وابستہ ہے اور آنجناب عمدة القاری کے مطابق اس جگہ الفاظ "هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ “ ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحه (۳۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔