صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 559
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۵۹ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة وَالنَّاسُ قِيَامٌ وَهِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ حضرت عائشہ کے پاس آئی اور لوگ کھڑے تھے مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ اور وہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کہ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللهِ فَقُلْتُ آيَةٌ۔قَالَتْ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو حضرت عائشہ نے اپنے ہاتھ بِرَأْسِهَا أَنْ نَّعَمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى میں نے کہا: کوئی نشان ہے ؟ تو انہوں نے اپنے سر عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَرَهُ إِلَّا سے اشارہ کیا کہ ہاں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔پھر فرمایا : جو چیز بھی میں نے نہیں دیکھی وَالنَّارَ وَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي تھی اس کو میں نے اپنے اس مقام میں دیکھ لیا یہاں الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ فَأَمَّا تک کہ جنت اور دوزخ بھی اور مجھے یہ وحی کی گئی الْمُؤْمِنُ - أَوِ الْمُسْلِمُ لَا أَدْرِي أَيَّ کہ تمہیں قبروں میں تقریباً اسی طرح آزمایا جائے ذلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ گا جتنا فتنہ دجال کے ذریعہ سے۔پھر جو مومن ہو گا جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ فَأَجَبْنَاهُ وَآمَنَّا فَيُقَالُ ياجو مسلمان ہوگا۔(فاطمہ کہتی تھیں) میں نہیں جانتی یا نَمْ صَالِحًا عَلِمْنَا أَنَّكَ مُوقِنْ وَأَمَّا که حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کہا، تو الْمُنَافِقُ - أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ وہ کہے گا: محمد (صلی ) ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ لَا أَدْرِي لائے۔ہم نے اُن کا کہنا مان لیا اور ایمان لائے تو سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ کہا جائے گا: آرام سے سو رہو۔ہم نے جان لیا کہ تم یقین کرنے والے ہو ، اور جو منافق ہو گا یا شک کرنے والا ہو گا۔(فاطمہ کہتی تھیں) میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماڑ نے ان میں سے کون سا لفظ کہا، تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا اور میں نے بھی کہہ دیا۔أطرافه ٨٦ ۱٨٤، ۹۲۲، ۱۰۵۳ ، ۱۰۰ ، ۱۰۶۱، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، ۲۰۱۹، ٢٥۲۰۔۷۲۸۸: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۲۸۸: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے