صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 536 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 536

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۶ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد الْخَنْدَقِ قَالَ سُفْيَانُ هُوَ يَوْمٌ وَاحِدٌ جابر سے سنا۔(علی بن مدینی کہتے تھے :) میں نے وَتَبَسَّمَ سُفْيَانُ۔سفیان بن عیینہ) سے کہا کہ ثوری کہتے ہیں قریظہ کی جنگ میں فرمایا۔تو سفیان نے کہا: مجھے تو جنگ خندق ایسے ہی یاد ہے جیسا کہ یہ بات کہ تم بیٹھے ہوئے ہو۔سفیان نے کہا کہ جنگ خندق اور قریظہ ایک ہی جنگ ہے اور سفیان مسکرائے۔أطرافه: ٢٨٤٦، ۲۸٤٧، ۲۹۹۷، ۳۷۱۹، ۱۱۳۔ريح : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ طَطِيعَةٌ وَحْدَهُ: بي صلى اللہ علیہ سلم کا حضرت زبیر کو اکیلے ہی بطور ہر اول بھیجنا۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری نے معنونہ روایت بیان کر کے خبر واحد کے جواز پر دلیل قائم کی ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۲۹۴) باب ٣ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ (الأحزاب: ٤ ٥) اللہ تعالیٰ کا (یہ) فرمانا : نبی کے گھروں میں مت داخل ہو سوائے اس کے کہ تم کو اجازت دی جائے فَإِذَا أَذِنَ لَهُ وَاحِدٌ جَازَ۔اگر ایک شخص اس کو اجازت دے تو یہ کافی ہو گا۔٧٢٦٢: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۷۲۶۲: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ ایوب نے ابو عثمان (نہدی) سے، ابو عثمان نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا حضرت ابو موسیٰ (اشعری) سے روایت کی کہ نبی صلی اسلام ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ الْبَابِ فَجَاءَ رَجُلٌ پر پہرہ دینے کے لئے حکم دیا۔اتنے میں ایک شخص يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ الدَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ آیا، اجازت مانگنے لگا۔آپ نے فرمایا: انہیں اجازت فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ ائْذَنْ دو اور جنت کی ان کو بشارت دو۔کیا دیکھتا ہوں کہ لَّهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَقَالَ وہ حضرت ابو بکر ہیں۔پھر حضرت عمر آئے۔آپ