صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 503 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 503

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۳ ۹۴ - كتاب التمني تشریح : لَيْتَ كَذَا وَكَذَا: یعنی کاش ایسا ایسا ہوتا۔"کی" کی بحث میں نحوی یہ بیان کرتے ہیں کہ ان الفاظ سے ایسی خواہش کا اظہار ہوتا ہے جو پوری نہ ہو سکے۔جیسے کہا جاتا ہے : لَيْتَ الشَّبَابَ عَائِدٌ کاش جوانی لوٹ آئے۔امام بخاری کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے لو اور آیت کے اُن معانی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ آپ کی خواہشات مرضی مولا کے مطابق تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کی خواہشات کو بھی پورا فرماتا تھا۔حج کے موقع پر آپ کا حج اور عمرہ کا ایک ہی احرام میں ادا کرنا جو کہ مشکل امر ہے اور سہولت سے فائدہ نہ اُٹھانا، قیام شریعت کے لئے آپ کا یہ نمونہ پیش کرنا ضروری تھا کیونکہ لوگوں کا میلان تو سہولت کی طرف زیادہ ہوتا ہے جو بسا اوقات احکام شریعت سے پہلو تہی کرنے پر منتج ہوتا ہے مگر شارع نے شریعت کی کامل شکل پیش کرنے کے لئے اپنے لئے مشکل راہ اختیار کی اور لوگوں کے لئے سہولت کی راہ پیش کی تاکہ دونوں پہلو اجاگر ہو جائیں اور آپ کی سیرت کا یہ پہلو نمایاں ہو کہ قیام شریعت کے لئے آپ نے کس قدر تکالیف اُٹھائیں۔باب نمبر ۴ کی روایت سے آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کا ذکر کر کے اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر آپ پر اس قدر تھی کہ آپ کو آرام پہنچانے کے لئے آپ کے جانثار صحابی کے دل میں اللہ تعالیٰ نے وہ تحریک ڈالی جو آپ کی خواہش کی تکمیل میں سہولت پیدا کرنے کا باعث بنی۔اسلام کی تعلیم اور اس کے ساتھ اسوۂ رسول اسی اعتدال کا نام ہے۔بَابِ : تَمَنِّي الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ قرآن پڑھنے اور علم سیکھنے کی آرزو کرنا ۷۲۳۲: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۷۲۳۲: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ اعمش سے ، اعمش نے ابو صالح سے، ابو صالح نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں رشک تَحَاسُدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ نہ ہو مگر صرف دو آدمیوں کے متعلق۔ایک وہ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا ہو اور يَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا وہ اُس کو رات اور دن پڑھتا ہو تو کوئی کہے کہ کاش لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا اگر مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جو اسے دیا گیا ہے تو يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ فَيَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ میں بھی ضرور ایسا ہی کروں گا جیسا یہ کرتا ہے اور مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ۔ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اُس کو