صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 502
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۲ ۹۴ - كتاب التمني سے روایت ہے کہ جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں کے متعلق اختیار دیا گیا تو آپ نے ضرور ہی اُن میں سے زیادہ آسان کو اختیار کیا بشر طیکہ وہ گناہ نہ ہوتا اور اگر گناہ ہو تا تو آپ اس سے تمام لوگوں سے زیادہ دُور رہتے تھے۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب قول النبی ﷺ يسروا ولا تعسروا، روایت نمبر ۶۱۲۶) معنونه روایت میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حج کے متعلق یہ خواہش اور تمنا کہ اگر مجھ پر یہ معاملہ پہلے کھل جاتا تو میں بھی قربانی اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج تمتع ہی کرتا، آپ کے اسی اُسوہ کی جھلک پیش کر رہی ہے۔بَاب ٤ : قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْتَ كَذَا وَكَذَا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: کاش ایسا ایسا ہوتا ۷۲۳۱: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ۷۲۳۱: ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہ سلیمان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بن بلال نے ہمیں بتایا کہ یحییٰ بن سعید نے مجھ سے بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے رَبِيعَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ النَّبِيُّ سنا۔انہوں نے کہا: حضرت عائشہ فرماتی تھیں: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی تو آپ نے فرمایا: کاش میرے ساتھیوں میں سے کوئی اچھا فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي آدمی آج رات میرا پہرہ دے۔اتنے میں ہم نے يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ ہتھیار کی آواز سنی۔آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ السّلَاحِ قَالَ مَنْ هَذَا؟ قَالَ سَعْدٌ يَا جواب آیا: یا رسول اللہ ! سعد ہوں، میں آپ کا پہرہ رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُكَ فَنَامَ النَّبِيُّ دینے کے لئے آیا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا ہو گئے اور ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی۔غَطِيطَهُ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَتْ ابو عبد اللہ ( امام بخاری) نے کہا: اور حضرت عائشہ عَائِشَةُ قَالَ بِلَالٌ: فرماتی تھیں کہ بلال نے یہ شعر پڑھا: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً اے کاش کہ مجھے معلوم ہو آیا میں وادی میں کوئی بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ رات بسر کروں گا اور میرے آس پاس اذخر اور جلیل گھاس ہو گی۔فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا۔طرفه ٢٨٨٥-