صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 489 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 489

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۸۹ ۹۳ - كتاب الأحكام مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ کعب کو جبکہ وہ نابینا ہو گئے تھے اُن کے بیٹوں كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا تَخَلَّفَ عَنْ میں سے یہی ان کو پکڑ کر لے جایا کرتے تھے کہ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي میں نے حضرت کعب بن مالک سے سنا۔وہ کہتے غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ حَدِيثَهُ وَنَهَى تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے۔انہوں نے اپنا سارا الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا فَلَبِئْنَا عَلَى واقعہ بیان کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَآذَنَ رَسُولُ اللهِ نے مسلمانوں کو ہمارے ساتھ کلام کرنے سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ روک دیا اور ہم پچاس راتیں اسی حالت میں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ عَلَيْنَا۔أطرافه : ٢٧٥٧، ٢٩٤٧، ٢٩٤٨، اللہ نے ہم پر رحم کر دیا ہے۔،٣٠، ٣٥٥٦۸۸ ،۲۹۵۰ ،٢٩٤٩ -٤٤١٨ ، ٤٦٧٣ ٤٦٧٦ ٤٦٧٧ ٤٦٧٨ ٦٢٥٥ ، ٦٦٩٠ ۳۸۸۹ ريح : هَلْ لِلْإِمَامِ أَنْ تَمْتَعَ الْمُجْرِمِينَ وَأَهْلَ الْمَعْصِيَةِ : کیا نام کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مجرموں اور نافرمانوں کو اپنے ساتھ بات کرنے اور اپنے ساتھ ملاقات وغیرہ کرنے سے منع کر دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان سے کوئی غلطی یا قصور ہو جائے اور اس پر انہیں سزا دی جائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے دین کی فلاں فلاں خدمت کی ہے مگر ہماری قدر نہیں کی گئی۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی کام کرنا الگ بات ہے اور کسی نقص پر سزا دینا یا محاسبہ کرنا یہ بالکل علیحدہ بات ہے۔کعب بن مالک مکا واقعہ کیسا سبق آموز ہے۔وہ تمام غزوات میں آنحضرت لی الی یوم کے ساتھ رہے، مکہ کی فتح میں بھی ساتھ تھے مگر غزوہ تبوک میں ستی سے پیچھے رہ گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی سخت سزادی کہ ان کے سلام کا جواب تک نہ دیتے تھے۔تمام مسلمانوں کو کلام کرنے سے روک دیا حتی کہ بیوی کو بھی الگ کر دیا۔اسی حالت میں غسان کے بادشاہ کا اپنی اُن کے پاس خط لایا جس میں لکھا تھا کہ تیرے صاحب نے تیری قدر نہیں کی تو میرے پاس آجا۔انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ شیطان کا آخری حملہ ہے خط کو تنور میں ڈال دیا اور ایچی کو کہا کہ اپنے بادشاہ کو یہ پیغام پہنچا دینا مگر آجکل کے لوگ ہیں کہ ان سے اگر