صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 487 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 487

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۸۷ ۹۳ - كتاب الأحكام وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ آمُرَ بِحَطَبٍ يُحْتَطَبُ ثُمَّ آمُرَ میں میری جان ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ لکڑیوں بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذِّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا کے متعلق حکم دوں کہ اکٹھی کی جائیں۔پھر نماز کے فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ متعلق کہوں کہ اس کے لئے اذان دی جاوے۔پھر کسی آدمی سے کہوں کہ لوگوں کے آگے ہو کر نماز فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا پڑھائے۔پھر میں پیچھے سے کچھ آدمیوں کی طرف جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت جلا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ دوں اور اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں الْعِشَاءَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو یہ معلوم يُونُسُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ ہو کہ گوشت کی موٹی بڑی یا دو گھر ملیں گے تو وہ أَبُو عَبْدِ اللهِ مِرْمَاةٌ مَا بَيْنَ ظِلْفِ عشاء کی نماز میں ضرور آئے۔محمد بن یوسف نے الشَّاةِ مِنَ اللَّحْمِ مِثْلُ مِنْسَاةٍ کہا کہ یونس نے کہا محمد بن سلیمان نے بتایا کہ ابو عبد اللہ نے کہا کہ مِرماة وہ گوشت ہے جو بکرے کے گھروں میں ہوتا ہے بروزن مِنْسَاةٍ وَمِيضَاةِ الْمِيمُ مَحْفُوضَةٌ۔أطرافه : ٦٤٤ ، ٦٥٧ ، ٢٤٢٠ - اور ميضاۃ میم کے نیچے زیر ہے۔يح : إِخْرَاجُ الْخُصُومِ وَأَهْلِ الرِّيبِ مِنَ الْبُيُوتِ بَعْدَ الْمَغْرِفَة : جھگڑالوؤں اور مشکوک آدمیوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکلوا دینا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: عنوان باب میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بہن کے نوحہ کرنے پر اُن پر اظہار ناراضگی کا واقعہ طبقات ابن سعد میں بروایت سعید بن مسیب منقول ہے کہ حضرت ابو بکر کی وفات پر ان کے گھر میں رشتہ دار عورتیں جمع ہو گئیں اور نوحہ کرنا شروع کر دیا۔حضرت عمر نے انہیں اس سے روکا۔وہ نہ رکیں آخر انہوں نے ہشام بن ولید سے کہا کہ انکو گھر سے نکال دیا جائے۔اسحاق بن راہویہ کی مسند میں بھی یہی روایت منقول ہے۔اس میں ذکر ہے کہ انہوں نے درہ لے کر ایک ایک کر کے سب کو نکال دیا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۹۳ - عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۶۰،۲۵۹) ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۴ صفحه ۴۱۹)