صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 480
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۸۰ ۹۳ - كتاب الأحكام الْمُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَى اللهُ وَيَدْفَعُ اس خیال سے کہ باتیں کرنے والے باتیں نہ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللهُ وَيَأْبَى کریں یا آرزو کرنے والے آرزو نہ کریں۔پھر الْمُؤْمِنُونَ۔طرفه : ٥٦٦٦- اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ میں نے سوچا: اللہ ایسا نہیں ہونے دے گا اور مؤمن بھی اس بات کو رڈ کر دیں گے۔یا فرمایا: اللہ رد کر دے گا اور مؤمن نہیں مانیں گے۔۷۲۱۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۷۲۱۸: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ہشام عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قِيلَ لِعُمَرَ أَلا باپ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ روایت کی۔اُنہوں نے کہا حضرت عمر سے کہا گیا۔آپ خلیفہ نہیں مقرر کر دیتے؟ انہوں نے کہا: اگر میں خلیفہ مقرر کر جاؤں تو وہ شخص جو مجھ سے بہتر وَإِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ ہے اس نے بھی خلیفہ مقرر کر دیا تھا یعنی حضرت مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو بکر نے ؟ اور اگر میں رہنے دوں تو اس نے بھی وَسَلَّمَ فَأَفْنَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ رَاغِبٌ وَ رہنے دیا تھا جو مجھ سے بہتر ہے یعنی رسول اللہ صلی رَاهِبٌ وَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا الله عليه وسلم ؟ یہ سن کر وہ لوگ تعریف کرنے كَفَافًا لَا لِيَ وَلَا عَلَيَّ لَا أَتَحَمَّلُهَا لگے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اُمید بھی رکھتا ہوں اور ڈرتا بھی ہوں۔میں تو یہ چاہتا ہوں کاش میں اس محاسبہ سے نجات پاکر نکلوں۔برابر برابر ہو نہ مجھے ثواب ملے اور نہ مجھ پر وبال ہو میں تو اس حساب کو حَيَّا وَ مَيّتًا۔زندگی میں بھی اور مرکز بھی برداشت نہیں کرتا۔۷۲۱۹: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۷۲۱۹ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِي هشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے