صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 478 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 478

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۷۸ ۹۳ - كتاب الأحكام باب ٥٠ : مَنْ نَكَثَ بَيْعَةً جس نے بیعت کو توڑ دیا وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ ہیں وہ تو اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ اُن أَيْدِيهِمْ فَمَنْ تَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلیٰ کے ہاتھوں کے اوپر ہوتا ہے۔ پھر جس نے عہد نَفْسِهِ ۚ وَ مَنْ أَوْفَى بِمَا عُهَدَ عَلَيْهُ الله توڑا تو وہ اپنے ہی نقصان کے لئے عہد توڑتا ہے فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (الفتح : ١١) اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے گیا ہے تو وہ عنقریب اس کو بہت بڑا اجر دے گا۔ ٧٢١٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۲۱۶: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ (توری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے محمد بن منکدر جَابِرًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِي إِلَى النَّبِيِّ سے روایت کی۔ میں نے حضرت جابر سے سنا۔ وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَايِعْنِي کہتے تھے: ایک بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَلَى الْإِسْلَامِ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ آیا اور کہنے لگا: اسلام پر قائم رہنے کی بیعت مجھ سے لے لیں۔ چنانچہ آپ نے اس سے اسلام پر ثُمَّ جَاءَ الْغَدَ مَحْمُومًا فَقَالَ أَقِلْنِي رہنے کی بیعت لی۔ پھر وہ دوسرے دن بخار میں فَأَبَى فَلَمَّا وَلَّى قَالَ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ مبتلا ہو کر آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طِيبَهَا۔ دیجئے۔ آپ نے انکار کر دیا۔ جب اس نے پیٹھ پھیری آپ نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے وہ اپنی میل باہر پھینک دیتا ہے اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔ أطرافه : ۱۸۸۳، ۷۲۰۹، ۷۲۱۱، ۷۳۲۲ تشریح : من نَكَفَ بَيْعَةً : جس نے بیعت کو توڑ دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ا۔ بعض نسخوں میں اس جگہ الفاظ ويَنْصَعُ طِيبُهَا ہے ) صحیح البخاری مطبوعہ مکتبة الرشد صفحہ ۹۹۳) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔