صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 472 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 472

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۷۲ ۹۳ - كتاب الأحكام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی۔ پھر الْأَعْرَابِيَّ وَعْكَ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى اس بدوی کو مدینہ میں ہی بخار آنے لگا۔ تو وہ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ بدوی را رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! میری بیعت فتح کریں۔ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ پھر وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَقِلْنِي آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فخ بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي کر دیں۔ آپؐ نے نہ مانا۔ پھر وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں۔ تب بھی بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ نے نہ مانا۔ اس پر وہ ہدا اس پر وہ بدوی نکل کر چل دیا۔ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو بھٹی إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَتَهَا کی طرح ہے جو اپنی میل کو باہر پھینک دیتا ہے وَتَنْصَعُ طِيبَهَا ۔۔ أطرافه : ۱۸۸۳ ، ۷۲۰۹، ۷۲۱۶، ۷۳۲۲- اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔ بَاب ٤٨ : مَنْ بَايَعَ رَجُلًا لَّا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنْيَا جو کسی شخص سے بیعت کرے محض دنیا ہی کی خاطر اس سے بیعت کر رہا ہو ۷۲۱۲ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي ۷۲۱۲ : عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِح ابوحمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ابو صالح ہے، ابو صالح نے سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں اللہ قیامت کے دن يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ اُن سے بات نہیں کرے گا اور نہ ا انہیں پاک وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ صاف کرے گا اور اُن کو دردناک سزا ہوگی۔ بعض نسخوں میں اس جگہ الفاظ ”وَيَنْصَعُ طِيهَا “ ہیں۔ ندا (الجامع الصحيح للبخاري مطبوعه دار طوق النجاة، عن النسخة اليونينية، جزء ۹ صفحه ۱۷۹)