صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 450
صحیح البخاری جلد ۱۶ لدو۔ ۹۳ - كتاب الأحكام رم صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ یعنی جو عمر میں بڑا تھا۔ چنانچہ حضرت حویصہ نے فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گفتگو کی۔ پھر اس کے بعد حضرت محیصہ نے گفتگو وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ بِهِ فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا توہ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تمہارے اس ساتھی کی دیت دیں یا جنگ کا اعلان کر دیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وَسَلَّمَ لِحُوَيْصَةَ وَمُحَبِّصَةً وَعَبْدِ کے متعلق ان کو لکھ تو آپ کو جوابا یہ لکھا گیا کہ ہم الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُونَ دَمَ نے اس کو قتل نہیں کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا لَا۔ قَالَ أَفَتَحْلِفُ علیہ وسلم نے حضرت حویصہ ، حضرت محیصہ اور لَكُمْ يَهُودُ؟ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ حضرت عبد الرحمن سے فرمایا: کیا تم قسم کھاؤ گے فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اپنے ساتھی کے خون بہا کے حقدار بنو گے ؟ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى اُنہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر کیا أُدْخِلَتِ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ فَرَكَضَتْنِي يهود تمہارے سامنے قسمیں کھائیں؟ اُنہوں نے مِنْهَا نَاقَةٌ۔ أطرافه : ۲۷۰۲، ۳۱۷۳، ٦١٤٣، ٦٨٩٨۔ کہا: وہ تو مسلمان نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ایک سو اونٹنی اس کی دیت دی اور وہ گھر میں لائی گئیں۔ حضرت سہل کہتے تھے: ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔ باب ۳۹ : هَلْ يَجُوزُ لِلْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ رَجُلًا وَحْدَهُ لِلنَّظَرِ فِي الْأُمُورِ کیا حاکم کے لئے یہ جائز ہے کہ معاملات کی تحقیق کرنے کے لئے صرف اکیلے شخص کو بھیجے 7193، ٧١٩٤: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ۷۱۹۳، ۷۱۹۴: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابْنُ أَبِي ذِنْبِ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ زہری نے ہم سے بیان عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کیا۔ زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے، عبید اللہ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَا جَاءَ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد