صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 436 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 436

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام تشريح : بَيْعُ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَضِيَاعَهُمْ : امام کالوں کی جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ کا بیچنا۔ مدبر وہ غلام ہے جس کو مالک کہہ دے کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: مالک متوفی کے ورثاء کے لئے جائز نہیں کہ مدبر کو فروخت کریں یا اس کی آزادی منسوخ کریں، بجز اس کے کہ آزاد کرنے والا مقروض ہو تو غلام کی آزادی قرض کی حالت میں کالعدم ہو گی اور اس کا قرضہ ادا کرنے کی غرض سے مدبر فروخت کیا جا سکتا ہے یا اس سے خدمت لی جا سکتی ہے؛ تا وقتیکہ اس کی کمائی سے وہ قرض ادا ہو جائے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض ادا کرنے کے لئے مدبر کو فروخت کیا۔ مقروض کے غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا درست نہیں، جب تک کہ اس کا قرضہ ادانہ کر دیا جائے۔“ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۳۱) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۴۹) اسماعیلی کی روایت میں بایں الفاظ صراحت ہے: فِي رَجُلٍ اعْتَقَ غُلَامًا لَّهُ عَنْ دُبُرٍ وَعَلَيْهِ دَيْنَ فَبَاعَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَم ۔ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد قرار دیا؛ بحالیکہ اس کے ذمہ قرض تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ غلام آٹھ سو در ہم پر بیچ دیا۔ (ترجمہ و شرح صحیح بخاری جزء ۴ صفحه ۲۰۰) بَاب ۳۳ : مَنْ لَمْ يَكْتَرِثْ بِطَعْنِ مَنْ لَا يَعْلَمُ فِي الْأُمَرَاءِ حَدِيثًا جو شخص اُن لوگوں کے طعنوں کی پرواہ نہ کرے جو امیروں کے متعلق لا علمی میں ہوں ۷۱۸۷ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۱۸۷: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عبد العزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ عبد الله بن و بن دینار عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا میں نے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ بَعَثَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ اور لوگوں پر اُسامہ بن زید کو امیر مقرر کیا۔ ان فَطْعِنَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا کی امارت کے متعلق طعن کیا گیا تو آپ نے فرمایا: