صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 435
۴۳۵ صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام دلائی ہے کہ آنحضور ملی یم نے فرمایا: جس کے لئے میں کسی مسلمان کا حق دلانے کا فیصلہ دوں تو وہ (ناحق) خواہ تھوڑا لے یا زیادہ، آگ کا ٹکڑاہی لیتا ہے۔ابن منیر نے اس عنوانِ باب کے قیام کی مزید توجیہات بھی پیش کی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یا تو امام بخاری نے اس میں بعض مالکیوں کے اس موقف کے رڈ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ قاضی جس کو چاہے سمجھ بوجھ اور بات کو نافذ کرنے کی طاقت کے لحاظ سے بعض معاملات کو چھوڑتے ہوئے بعض دیگر معاملات کے لیے نائب مقرر کر سکتا ہے۔یا یہ کہ امام موصوف نے اس قول کارڈ کیا ہے کہ قسم مال کی ایک خاص مقدار کے متعلق ہی دینا واجب ہے ، حقیر چیز کے متعلق واجب نہیں۔یا یہ کہ اس میں ایسے قاضیوں کا رڈ ہے جو تکبر کی وجہ سے حقیر چیز کے متعلق خود فیصلہ نہیں دیتے بلکہ ایسے مقدمات کو اپنے نائب کی طرف بھیج دیتے ہیں۔علامہ ابن حجر کے نزدیک ان میں سے پہلی بات ہی بہتر طور پر امام بخاری کا مقصد واضح کرنے والی ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۲۲۱) بَاب :۳۲: بَيْعُ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَضِيَاعَهُمْ وَقَدْ بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَبَّرًا مِنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّعَامِ امام کالوگوں کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا بیچنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت نعیم بن نحام کو (ایک غلام) بیچا ٧١٨٦: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ۷۱۸۶: (محمد بن عبد اللہ ) ابن نمیر نے ہم سے مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بیان کیا کہ محمد بن بشر نے ہمیں بتایا۔اسماعیل حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ بن ابی خالد ) نے ہم سے بیان کیا کہ سلمہ بن عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَلَغَ النَّبِيُّ سہیل نے ہمیں بتایا۔سلمہ نے عطاء بن ابی رباح) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبد الله۔روایت کی۔اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد قرار دیا۔اس کے سوا اُس کی کوئی اور جائیداد نہ تھی۔تو آپ نے اس کو آٹھ سو در ہم پر بیچ دیا اور پھر اس کی قیمت اسی شخص کو بھیج دی۔أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ فَبَاعَهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَم ثُمَّ أَرْسَلَ بِثَمَنِهِ إِلَيْهِ۔أطرافه : ۲۱٤۱ ، ۲۲۳۰، ۲۰۰۳، ۲۴۱۰، ٢٥٤، ٦٧١٦، ٦٩٤٧۔بخص