صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 422
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۲ ۹۳ - كتاب الأحكام بڑے بڑے لوگ انکی اقتداء کرنے لگے۔زیر باب روایت میں اس کی ایک روشن مثال بیان کی گئی ہے اور ایک ایسے غلام کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنے علم اور تقویٰ سے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( الفرقان: ۷۵) کا مصداق بنا۔یعنی حضرت سالم مولیٰ حضرت ابو حذیفہ۔ان کا مختصر تعارف یہ ہے۔سالم نام، ابو عبد اللہ کنیت، والد کے نام میں اختلاف ہے، بعض عبید بن ربیعہ اور بعض معقل لکھتے ہیں، یہ ایرانی الاصل ہیں، اصطخر ان کا آبائی مسکن تھا، حضرت ابو حذیفہ کی زوجہ حضرت شبیة (بنت بعار) انصاریہؓ کی غلامی میں تھے ، انہوں نے آزاد کر دیا، تو حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ نے ان کو اپنا متبنی کر لیا، اس لحاظ سے ان میں انصار و مہاجر کی دونوں حیثیتیں مجتمع ہیں۔(اسد الغابہ جزء ۲ صفحہ ۳۸۲) وہ عموماً سالم بن حذیفہ کے نام سے مشہور تھے، ابو حذیفہ بھی ان کو اپنے لڑکے کی طرح سمجھتے تھے اور اپنی بھیجی فاطمہ بنت ولید سے بیاہ دیا تھا، لیکن جب قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی اُدعُوهُمْ لا بَابِهِمْ (الاحزاب: 1) یعنی ( چاہیے کہ) ان (لے پالکوں) کو ان کے باپوں کا بیٹا کہہ کر پکارو۔تو سالم بھی ابن کی بجائے مولی ابی حذیفہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔(سنن ابی داود، کتاب النکاح، باب فی من حرم به ابن سعد کی روایت ہے کہ جنگ یمامہ ۱۲ ھ کے موقع پر جب مسلمانوں کے پاؤں پیچھے ہٹنے لگے تو سالم نے کہا افسوس ! رسول اللہ صلی ال ولیم کے ساتھ تو ہمارا یہ حال نہ تھا، وہ اپنے لیے ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہو گئے اور علم سنبھالے ہوئے آخری لمحہ حیات تک جانبازانہ شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد، طبقات البدريين من المهاجرين، سالم مولى ابي حذيفة، جزء۳ صفحه ۶۵) حضرت سالم کی فضیلت میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آنحضرت صلی الله ولم نے حضرت سالم کو ان اساتذہ میں شمار فرمایا جو قرآن کے عالم تھے۔حضور صلی ا یکم فرماتے ہیں کہ قرآن چار شخصوں سے سیکھو ، ابن مسعودؓ، ابی بن کعب، معاذ ابن جبل ، سالم مولی ابی حذیفہ۔(روایت نمبر ۳۷۵۸) بَاب ٢٦ : الْعُرَفَاءُ لِلنَّاسِ لوگوں کے نمائندے مقرر کرنا ٧١٧٦، ۷۱۷۷: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ۷۱۶-۷۱: اسماعیل بن ابی اولیس نے ہم بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ اُنہوں نے اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے روایت قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ کی۔ابنِ شہاب نے کہا عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ که مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ دونوں نے انہیں بتایا کہ جب مسلمانوں نے