صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 420 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 420

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۰ ۹۳ - كتاب الأحكام قَالَ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَأْتِي اور وہ آکر کہتے ہیں یہ تو تمہارا ہے اور یہ میرا ہے۔فَيَقُولُ هَذَا لَكَ وَهَذَا لِي فَهَلًا وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ رہے پھر جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ دیکھتے آیا اُن کو تحفے دیئے جاتے ہیں یا نہیں۔اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ جو کچھ بھی وہ لائے گا تو قیامت کے دن اس کو اپنی لَا يَأْتِي بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ گردن پر اُٹھائے ہوئے لائے گا۔اگر اونٹ ہوا تو الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ وہ بڑبڑا رہا ہو گا یا گائے ہو گی تو وہ ہیں میں کر رہی بَعِيرًا لَهُ رُغَاء أَوْ بَقَرَةً لَهَا حُوَارٌ أَوْ ہوگی یا بکری ہوئی تو وہ میں میں کر رہی ہوگی۔شَاةً تَبْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ ثَلَاثًا اُٹھائے کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔قَالَ سُفْيَانُ قَصَّهُ عَلَيْنَا الزُّهْرِيُّ تین بار فرمایا: سنو ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ سفیان وَزَادَ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ( بن عيينه ) کہتے تھے۔زہری نے ہمیں یہ واقعہ قَالَ سَمِعَ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنِي سنایا۔اور ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ سَمِعَهُ مَعِي نے حضرت ابو حمید سے روایت کرتے ہوئے اتنا وَلَمْ يَقُلْ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ أُذُنِي۔خُوَارٌ زیادہ بیان کیا کہ حضرت ابو حمید نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری آنکھ نے آپ کو صَوْتٌ وَالْجُوَارُ مِنْ يَجْتَرُونَ كَصَوْتِ الْبَقَرَةِ۔دیکھا اور زید بن ثابت سے پوچھ لو کہ اُنہوں نے بھی میرے ساتھ یہ بات سنی اور زہری نے یہ نہیں کہا کہ میرے کان نے سنا۔خوار کے معنی آواز اور جُؤَارُ يَجْتَرُونَ سے ہے، اس کے معنی گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنا ہے۔أطرافه : ۹۲۵ ، ۱۵۰۰، ۲۵۹۷، 66۳۶، 6979، 7197۔یح : هَدَايَا الْعُمالِ : کارکنوں کو ہدیہ دینا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: یا کسی فرد کے لئے جائز نہیں کہ وہ زکوۃ کا خود حساب کر کے اُسے اپنے یا غیر کے لئے خرچ کرے۔حتی کہ محصلین بھی پابند ہیں کہ وہ زکوۃ کا حساب امام کے سامنے پیش