صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 418
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۱۸ ۹۳ - كتاب الأحكام مُسْكِرٍ حَرَامٌ۔ وَقَالَ النَّضْرُ وَأَبُو نے آپ سے کہا: ہمارے ملک میں شہد کا شراب دَاوُدَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَكِيعٌ عَنْ بنایا جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ ہے۔ اور اس حدیث کو نفر اور ابو داؤد اور یزید أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بن ہارون اور وکیع نے بھی شعبہ سے نقل کیا۔ شعبہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ نے سعید بن ابی بردہ سے، سعید نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے اپنے دادا سے، اُن کے دادا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ أطرافه : ۲۲٦١، ۳۰۳۸ ، ٤٣٤١ ، ٤٣٤٣، ٤٣٤٤، ٦١٢٤ ، ۱۹۲۳ ، ٧١٤۹، ٧١٥٦، ٧١٥٧۔ باب ۲۳ : إِجَابَةُ الْحَاكِمِ الدَّعْوَةَ حاکم کا دعوت قبول کرنا وَقَدْ أَجَابَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَبْدًا اور حضرت عثمان بن عفان نے حضرت مغیرہ بن لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ شعبہ کے غلام کی دعوت قبول کی۔ ۷۱۷۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۳ ۷۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی بن يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) الرام ا مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي سے روایت کی کہ منصور نے مجھے بتایا، منصور نے مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت نے حضرت ابو موسی سے ، وَسَلَّمَ قَالَ فَكُوا الْعَانِي وَأَجِيبُوا اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت الدَّاعِيَ۔ أطرافه : ٣٠٤٦، ٥١٧٤، 5373، ٥٦٤٩۔ کی۔ آپ نے فرمایا: گرفتار کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔ تشريح إجابة الحاكم الو کام کا موت اول را علامہ ابن جریاں کرتےہیں کہ علاہ کا : دعوت کرنا ۔ کرنا۔ موقف ہے کہ حاکم کو رعایا میں سے کسی معین شخص کی دعوت کسی دوسرے کی (دعوت) چھوڑ کر الا قبول نہیں کرنی چاہئیے، کیونکہ اس سے اُس (شخص) کی دل شکنی ہوگی جس کی دعوت قبول نہیں کی۔ ہاں اگر دعوت