صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 405 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 405

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۰۵ ۹۳ - كتاب الأحكام ٧١٦٤: وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ۷۱۶۴: اور زہری سے مروی ہے انہوں نے کہا، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سالم بن عبد اللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ كَانَ عبد الله بن عمر نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ کو کہتے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیا کرتے تھے الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي اور میں کہا کرتا تھا کہ آپ یہ ایسے شخص کو دے حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔آخر ایک دفعہ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي آپ نے مجھے کچھ مال دیا۔میں نے کہا: آپ یہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلُهُ ایے کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لو اور اس سے فَقَالَ النَّبِيُّ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا اور مال پیدا کرو اور اس کو صدقہ میں دو کیونکہ الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفِ وَلَا سَائِلِ اس مال سے جو بھی تمہارے پاس ایسی حالت میں فَخُذْهُ وَمَالَا فَلَا تُتَّبِعْهُ نَفْسَكَ۔آئے کہ تم اس کو جھانک نہیں رہے اور نہ اس کو أطرافه : ١٤٧٣، ٧١٦٣- مانگ رہے ہو تو تم اس کو لے لو ورنہ پھر اپنے نفس کو اس کے پیچھے مت لگاؤ۔تشریح : رِزْقُ الْحَكَامِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا : حاکموں اور کارکنوں کی روزی جو کسی جگہ پر مقرر ہوں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی ا ولم نے حضرت عمرؓ کو بیت المال سے بطور حق دیا تھا۔آپ نے اُن کو عامل یعنی محصل زکوۃ مقرر کیا تھا۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۲۵) قرآنِ مجید کے ارشاد و الْعَمِلِينَ عَلَيْهَا (التوبة: (۶۰) کے مطابق انہیں اس خدمت کا حق ملنا چاہیئے تھا۔مگر انہوں نے لینے سے انکار کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے اس شبہ کا ازالہ فرمایا کہ لینے کیلئے فقر و فاقہ ہی شرط نہیں۔حضرت عمرؓ نے یہ سن کر کہا: آپ کا عطیہ میں نے قبول کر لیا۔یہاں دونوں صورتیں پائی جاتی ہیں۔سوال بھی نہیں اور لالچ نفس بھی نہیں۔(شرح صحیح بخاری جلد ۳ صفحه ۱۱۵)