صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 393
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۳ ۹۳ - كتاب الأحكام ہٹ جاؤ بلکہ تمہیں ہر حال میں عدل پر قائم رہنا چاہتے کیونکہ عدل کرنا تقویٰ کے قریب تر ہے اور تقویٰ وہ جو ہر ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ ہے کہ پس خدا کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ خدا تمہارے اعمال کو جانتا اور دیکھتا ہے۔مستقل دشمنی تو الگ رہی اسلام عارضی غصہ کی حالت کے خلاف بھی مسلمانوں کو ہوشیار کرتا ہے چنانچہ آنحضرت صلی الیم فرماتے ہیں: لا يحكم الحاكم بين اثنين وهو غضبان یعنی کسی حاکم کے لئے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے در میان اس حالت میں کوئی فیصلہ کرے جبکہ وہ غصہ سے مغلوب ہو رہا ہو بلکہ اسے چاہئے کہ اس وقت تک انتظار کرے کہ اس کا غصہ دور ہو جائے خواہ غصہ کسی وجہ سے پیدا ہوا ہو۔( مضامین بشیر جلد دوم صفحه ۲۵۶،۲۵۵) 66 بَاب ١٤: مَنْ رَأَى لِلْقَاضِي أَنْ يَحْكُمَ بِعِلْمِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ إِذَا لَمْ يَخَفِ الظُّنُّونَ وَالسُّهَمَةَ جو قاضی کے متعلق یہ جائز سمجھے کہ وہ لوگوں کے معاملات میں اپنے علم کی بنا پر فیصلہ کرے بشر طیکہ اسے بد گمانیوں اور تہمت کا ڈر نہ ہو كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈ سے کہا: تم وَسَلَّمَ لِهِنْدِ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ دستور کے مطابق اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور بِالْمَعْرُوفِ وَذَلِكَ إِذَا كَانَ أَمْرًا تمہاری اولاد کو کافی ہو اور قاضی ایسا فیصلہ اس مَشْهُورًا۔وقت کر سکتا ہے جب کوئی مشہور بات ہو۔٧١٦١: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۶۱: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔اللهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ يَا فرماتی ہیں: ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں اور کہنے رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ لگیں۔یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! زمین پر کوئی الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ گھرانہ بھی ایسا نہیں تھا جن کا ذلیل ہونا مجھے اتنا عَائِشَةَ رَضِيَ