صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 369
صحیح البخاری جلد ۱۶ ٣٦٩ ۹۳ - كتاب الأحكام ٧١٤٥: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۷۱۴۵: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ سے بیان کیا۔سعد بن عبیدہ نے ہمیں بتایا۔سعد الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نے ابو عبد الرحمن سے، انہوں نے حضرت علی بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور اُس پر وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ ایک انصاری شخص کو امیر مقرر کیا اور لوگوں کو حکم وَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ دیا کہ اس کی فرمانبرداری کریں۔پھر وہ اُن پر ناراض جو ہوا، کہنے لگا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي؟ قَالُوا بَلَى۔حکم نہیں دیا تھا کہ تم میری فرمانبرداری کرو ؟ انہوں قَالَ قَدْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ نے کہا: بے شک۔اُس نے کہا: میں تم سے سنجیدگی حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا، سے یہ کہتا ہوں کہ تم لکڑیاں اکٹھی کرو اور آگ فَجَمَعُوا حَطَبًا فَأَوْقَدُوا نَارًا فَلَمَّا جلاؤ پھر اس آگ میں گھس جاؤ۔چنانچہ انہوں نے هَمُّوا بِالدُّخُولِ فَقَامُوا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ لکڑیاں اکٹھی کیں اور آگ جلائی۔جب انہوں نے إِلَى بَعْضٍ قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّمَا تَبِعْنَا گھنے کا ارادہ کیا تو وہ کھڑے ہو گئے، ایک دوسرے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ کو دیکھنے لگے۔اُن میں سے بعض نے کہا: ہم نے تو النَّارِ أَفَنَدْخُلُهَا؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ نبي صلى اللہ علیہ وسلم کی آگ سے بچنے کے لئے إِذْ حَمَدَتِ النَّارُ وَسَكَنَ غَضَبُهُ، پیروی کی تھی، کیا ہم اس میں اب داخل ہو جائیں؟ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ انہی باتوں میں تھے کہ اتنے میں وہ آگ بجھ گئی فَقَالَ لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا اور اس کا غصہ بھی تھم گیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَبَدًا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ۔سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ اس آگ میں داخل ہوتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔اطاعت تو معروف بات میں ہوتی ہے۔أطرافه : ٤٣٤٠، ٧٢٥٧-