صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 367
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام مرتبہ رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں۔اور تائیدات الہیہ ہر یک تحقیق اور ترقیق کے وقت کچھ ایسا سامان ان کے لئے میسر کر دیتی ہیں جس سے بیان ان کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقعہ ہوتی ہے۔سو جو جو علوم و معارف ودقائق حقائق و لطائف و نکات و ادلہ و براہین ان کو سوجھتے ہیں وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے به کامله پر واقع ہوتے ہیں کہ جو خارق عادت ہے اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تفہیم غیبی اور تائید صمدی ان کی پیش رو ہوتی ہے۔اور اسی تفہیم کی طاقت سے وہ اسرار اور انوار قرآنی اُن پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دود آمیز روشنی سے کھل نہیں سکتے۔اور یہ علوم و معارف جو اُن کو عطا ہوتے ہیں جن سے ذات اور صفات الہی کے متعلق اور عالم معاد کی نسبت لطیف اور باریک باتیں اور نہایت عمیق حقیقتیں اُن پر ظاہر ہوتی ہیں یہ ایک روحانی خوارق ہیں کہ جو بالغ نظروں کی نگاہوں میں جسمانی خوارق سے اعلیٰ اور الطف ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ عارفین اور اہل اللہ کا قدر و منزلت دانشمندوں کی نظر میں انہی خوارق سے معلوم ہوتا ہے اور وہی خوارق ان کی منزلت عالیہ کی زینت اور آرائش اور ان کے چہرہ صلاحیت کی زیبائی اور خوبصورتی ہیں۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۵۳۳، ۵۳۴ حاشیه در حاشیه ) بَاب ٤ : السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ لِلْإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً امام کی بات سننا اور ماننا جب تک کہ وہ بات معصیت نہ ہو ٧١٤٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۱۴۲ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي (قطان) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے شعبہ سے، التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ الله شعبہ نے ابوتیاح سے، ابوتیاح نے حضرت انس عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔اُنہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور