صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 342 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 342

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۴۲ ۹۲ - كتاب الفتن أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه : ٧٤٠٨۔حدیث کے متعلق حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔تشریح : ذکر اللہ جمالِ : دجال کا ذکر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں امت کی اصلاح کے لئے ایک مسیح اور مہدی کے ظہور کی پیشگوئی فرمائی اور اس کے ظہور کی علامتوں میں سے ایک علامت دجال کا ظہور بیان فرمائی۔دجال کے متعلق عوام الناس میں عجیب و غریب قسم کی کہانیاں مشہور ہیں اور وہ اسے عجیب الخلقت غیر معمولی قوتوں اور طاقتوں کا حامل فرد قرار دیتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دجال کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں وہ آپ کے رویا اور مکاشفات پرمشتمل ہیں جیسا کہ دجال کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بَيْنَا انا نائم أطوفُ بِالْكَعْبَةِ (روایت نمبر ۷۱۲۸) یعنی میں نے سوتے ہوئے خواب میں کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔رویا، مکاشفات اور پیشگوئیوں سے متعلق یہ مسلمہ اصول ہے کہ تعبیر طلب ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں گیارہ ستاروں، چاند اور سورج کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا تو اس سے مراد ظاہری سورج اور چاند ستارے نہ تھے بلکہ ان کے بھائیوں اور والدین کا زیر احسان ہو کر ان کے پاس آنا تھا۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ایک یہودی لڑکے ابن صیاد (جو بعد میں مسلمان ہو گیا) پر دجال ہونے کا شبہ کیا اور حضرت عمر نے آپ کے سامنے اس بات پر قسم کھائی کہ یہی دجال ہے اور آپ نے اس کی تردید نہیں فرمائی۔حالانکہ ظاہر ابن صیاد میں دجال کی اکثر علامتیں بالکل مفقود تھیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بھی دجال کے متعلق پیشگوئیوں کو مجازی رنگ میں سمجھتے تھے اور تمام علامات کا ظاہری اور جسمانی طور پر پایا جانا ہرگز ضروری نہ سمجھتے تھے۔قرآن کریم، احادیث نبویہ اور دجال کے لغوی معنوں سے پتہ چلتا ہے کہ دجال سے مراد کوئی عجیب الخلقت فرد نہیں بلکہ آج کی ترقی یافتہ مغربی اقوام ہیں۔ا۔دجال کے لغوی معنی: کذاب یعنی سخت جھوٹا۔مالدار اور خزانوں والا۔بڑا گر وہ جو اپنی کثرت سے زمین کو ڈھانپ لے۔ایسا گر وہ جو اموال تجارت اٹھائے پھرے۔(لسان العرب، وجل، جزء ۱ صفحه ۲۳۷) گویا دجال کے لغوی معنی یہ بنے کہ ایک کثیر تعداد جماعت جو تاجر پیشہ ہو اور اپنا تجارتی سامان دنیا میں لئے پھرے جو نہایت مالدار اور خزانوں والی ہو اور جو تمام دنیا کو اپنی سیر و سیاحت سے قطع کر رہی ہو اور ہر جگہ پہنچی ہوئی