صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 302 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 302

صحیح البخاری جلد ۱۶ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ۔ طرفه : ۱۰۳۷ ۳۰۲ ۹۲ - كتاب الفتن دے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اور ہمارے مسجد میں بھی؟ میں سمجھتا ہوں آپ نے تیسری بار پر فرمایا: وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں شیطان کی چوٹی نمودار ہو گی۔ ٧٠٩٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ ۷۰۹۵: اسحاق بن شاہین واسطی نے ہم سے بیان الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيَانِ عَنْ کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بیان (بن وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بشر ) سے، بیان نے وبرہ بن عبد الرحمن سے ، وبرہ جُبَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: عُمَرَ فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہمارے پاس باہر آئے اور حَسَنًا قَالَ فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ہم نے اُمید کی کہ وہ ہمیں اچھی بات بتائیں گے۔ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ سعید کہتے تھے ہم سے پہلے جلدی سے ایک شخص فِي الْفِتْنَةِ وَاللهُ يَقُولُ وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى نے پوچھا، کہنے لگا: ابو عبد الرحمن ہمیں بتائیں کہ لا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة : ١٩٤) فَقَالَ فتنے میں لڑنا کیسا ہے اور اللہ فرماتا ہے: تم ان سے هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؟ لڑو تاوة وقتیکہ کوئی فتنہ نہ رہے۔ حضرت ابن عمرؓ إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کہاں ہے تمہاری وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ ماں تم کو روئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةٌ وَلَيْسَ مشرکوں سے جنگ کیا کرتے تھے اور اُن کے لیے دین میں داخل ہونا فتنہ ہوتا تھا اور وہ لڑائی كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ۔ تمہاری لڑائی کی طرح نہ تھی جو بادشاہت کے لئے ہو رہی ہے۔ أطرافه : ۳۱۳۰، ۳۶۹۸ ، ٣٧٠٤، ٤٠٦٦ ، ٤٥١٣، ٤٥١٤، ٤٦٥٠، ٤٦٥١۔ تشريح : الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ : فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے پھوٹنے کے لیے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ مدینہ سے مشرق میں عراق ہے۔