صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 300
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۳۰۰ ۹۲ - كتاب الفتن (Catharsis) ہونا ضروری ہے تاکہ ان کے اندر کے سوال باہر آئیں ان کی تسلی اور تشفی ہو۔زیر باب حدیث میں بھی ایسے ہی خطرات کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوالات کی دعوت دی مگر اس میں ایک بہت اہم اور قابل فکر بات یہ ہے کہ سوالات میں کسی قسم کی بے ادبی اور کج بحثی نہ ہو۔یہ سائل کے سلب ایمان کا باعث بن سکتی ہے اور یہ امام کے ادب کے بھی خلاف ہے۔زیر باب حدیث میں اسی پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں جس سے وہ اندر ہی نشو و نما پاتارہتا ہے اور پھر اپنے شکوک و شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کرلے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذراسی بات پر سوال کرنا مناسب نہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے لَا تَسْتَدُوا عَنْ أَشْيَاءَ (المائدہ: ۱۰۲) اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کر کے دوسروں کی برائیاں نکالتا رہے یہ دونو طریق برے ہیں لیکن اگر کوئی امر اہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کر کے پوچھ لینا چاہیئے۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۳۸۵) باب ١٦: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ فتنہ مشرق کی طرف سے اُٹھے گا ۷۰۹۲: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۷۰۹۲: عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ ہشام بن یوسف (صنعانی) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ نے معمر سے ہعمر نے زہری سے، زہری نے سالم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ سے ، سالم نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے