صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 275 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 275

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۷۵ ۹۲ - كتاب الفتن أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ نے اُتارے اور کیا کچھ فتنے برپا کئے گئے۔ ان الْحُجُرَاتِ - يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ - لِكَيْ حُجرات والیوں کو کون جگائے۔ اس سے آپ کی يُصَلِّينَ؟ رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ مراد اپنی ازواج تھیں تا کہ وہ نماز (تہجد) پڑھیں۔ فِي الْآخِرَةِ۔ أطرافه : ۱۱۵ ، ۱۱۲۶ ، ٣٥۹۹، ٥٨٤٤، ٦٢١٨۔ بہت سی دنیا میں پہننے والیاں ہیں جو آخرت میں ننگی ہوں گی۔ تشريح : لَا يَأْتِي زَمَانَ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرْ مِنْهُ: ایا زمانہ آے گا کہ جو زمانہ اس کے بعد ہو گادہ اُس سے بدتر ہو گا۔ زیر باب روایت نمبر ۷۰۶۸ کے راوی زبیر بن عدی ہیں جو کہ کم عمر تابعین میں سے ہیں۔ رہی (تهران) میں قضاء کی ذمہ داری بھی ان کے سپر د ر ہی۔ امام بخاری نے ان سے صرف یہی ایک روایت بیان کی ہے۔ زبیر کہتے ہیں کہ ہم نے حجاج بن یوسف کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا حضرت انس بن مالک سے ذکر کیا تو انہوں نے یہ حدیث سنائی کہ صبر کرو اس کے بعد آنے والا زمانہ اس سے زیادہ برا ہو گا۔ شارحین نے اس پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز کا زمانہ ہے جو کہ حجاج کے زمانہ سے بدرجہا بہتر تھا بلکہ کہا جاتا ہے کہ ان کے زمانہ میں شرختم ہو گیا تھا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ (۱) عام طور پر بعد کا زمانہ پہلے زمانہ سے زیادہ شر والا ہوتا ہے۔ (۲) بعض نے کہا حجاج کا زمانہ حضرت عمر بن عبدالعزیز سے اس نسبت سے بہتر تھا کہ حجاج کے زمانہ میں صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی تعداد موجود تھی جبکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں صحابہ وفات پاچکے تھے۔ آخری صحابی حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں ہی فوت ہوئے تھے۔ وہ زمانہ جس میں صحابہ ہوں اُس زمانہ سے بہتر ہے جس میں صحابہ نہ ہوں۔ جیسے فرمایا خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ - بہترین لوگ میری صدی کے ہیں۔ پھر وہ جو معا ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ جو معاً ان کے بعد ہوں گے۔ ایک اور حدیث میں یہ ذکر ہے فرمایا صحابہ میری اُمت کے لیے امان ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحه (۱۸۵) عنوان باب کہ بعد میں آنے والا زمانہ زیادہ برا ہو گا، شارحین نے اس پر ایک اور سوال اٹھایا ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ دجال کے بعد ہو گا اور وہ یقینا دجال کے زمانہ سے بہتر ہو گا۔ دراصل دجال اور مسیح موعود کا زمانہ ایک ہی ہے و جالی زہر کے لیے ہی تو مسیح موعود تریاق بن کر آئیں گے۔ علامہ کرمانی نے کہا ہے اس بڑے زمانے سے مراد مسیح موعود کے بعد کا زمانہ ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۸۵) در حقیقت یہ ارشادِ نبوی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ جوں جوں سراج منیر سے دوری ہو گی۔ شہر بڑھتا جائے گا اور تاریکی کا یہ دور دس صدیوں پر محیط ہے۔ جس میں شریعت کے اٹھائے جانے کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔ فرماتا ہے : يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ ا۔ (صحيح البخاري، كتاب أصحاب النبي ﷺ بَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِي ، روایت نمبر ۳۶۵۱)