صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 274
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۷۴ ۹۲ - كتاب الفتن بَاب ٦ : لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ ایسا زمانہ آئے گا کہ جو زمانہ اُس کے بعد ہو گا وہ اُس سے بدتر ہو گا ٧٠٦٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۷۰۶۸: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيّ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زبیر قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا بن عدی سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ إِلَيْهِ مَا يَلْقُونَ مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اُنہوں نے کہا: ہم حضرت انس بن مالک کے پاس اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا آئے اور ہم نے اُن سے اس تکلیف کی شکایت کی وَالَّذِي بَعْدَهُ أَشَرُّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا جو ہم حجاج سے اُٹھا رہے تھے۔ تو حضرت انس رَبَّكُمْ۔ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى الله نے کہا: تم صبر کرو کیونکہ اب جو زمانہ بھی تم پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ آئے گا وہ پہلے سے بدتر ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملوں میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ ٧٠٦٩: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۰۶۹: ابولیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح۔ وَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی۔ إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ اور اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی بْنِ بِلَالٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے سلیمان بن بلال سے، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ اُنہوں نے محمد بن ابی عتیق سے، اُنہوں نے الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ہند بنت حارثہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ فراسیہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ زوجہ حضرت ام سلمہ بیان فرماتی ہیں: ایک رات وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ سُبْحَانَ اللهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے جاگے ۔ مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا آپ فرما رہے تھے سبحان اللہ کیا کچھ خزانے اللہ عمدۃ القاری میں یہاں لفظ ”تلقی“ ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۸۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔