صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 266
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۶۶ ۹۲ - كتاب الفتن پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے۔ میرے نزدیک شیعہ سنیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ ، ہاں باہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ باہم ایک تھے اور کچھ بھی کسی سے عداوت نہ تھی۔ نا سمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔ مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہہ نکلی تھیں۔ یہ اُس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے وسرے دلوں کو کو تسخیر کر لیا۔ آپ (پیغمبر خدا صلی الیوم) کی شکل و وصورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔ اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچے لیتے تھے اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت الرسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔ غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے طیار ہو رہی ہے اُسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی الہم نے طیار کی تھی۔ اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے۔ اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزو رکھتے ہو، اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔ اطاعت ہو تو ویسی ہو ، باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔ غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم صفحه ۲۴۶ تا ۲۴۸) بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أَغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: میری اُمت کی ہلاکت چند بیوقوف نوجوانوں کے ہاتھوں سے ہوگی ٧٠٥٨ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۰۵۸ : موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ