صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 261
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۶۱ ۹۲ - کتاب الفتن ٧٠٥٤: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۷۰۵۴: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ زید نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے جعد ابو عثمان سے حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءِ الْعُطَارِدِيُّ قَالَ روایت کی کہ ابور جاء عطاردی نے مجھ سے بیان سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کیا۔اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ روایت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: جو اپنے حاکم فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ سے کوئی ایسی بات دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہو تو الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً چاہیے کہ وہ اس بات پر صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوا اور پھر جَاهِلِيَّةً۔أطرافه : ٧٠٥٣، ٧١٤٣- وہ ایسی حالت میں مر گیا تو وہ یقینا جاہلیت کی موت مرا۔٧٠٥٥: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۰۵۵: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ نے مجھے بتایا۔اُنہوں نے عمر و ( بن حارث) سے، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جُنَادَةَ بنِ عمرو نے بکیر سے ، بکیر نے بسر بن سعید سے، بسر أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ نے جنادہ بن ابی اُمیہ سے روایت کی۔انہوں نے الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ قُلْنَا أَصْلَحَكَ کہا: ہم حضرت عبادہ بن صامت کے پاس اندر اللهُ حَدِتْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِ گئے اور وہ بیمار تھے۔ہم نے کہا: اللہ آپ کو اچھا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جس کے ذریعہ وَسَلَّمَ قَالَ دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى الله سے اللہ نے آپ کو فائدہ دیا ہو جو آپ نے نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ۔اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی۔أطرافه : ۱۸، ۳۸۹۲، ۳۸۹۳، ۳۹۹۹، ٤٨٩٤، ٦٧٨٤، ٦٨٠١ ٦٨٧٣ ، ٧٤٦٨۔،۷۲۱۳ ،۷۱۹۹